43

بھارت میں ہندو لڑکے کو مسلمان سمجھ کر قتل کردیا گیا

دہلی : بھارت کے شہر دہلی میں ساحل نامی ہندو لڑکے کو مسلمان سمجھ کر قتل کردیا گیا، پولیس نے واقعے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کے شہر دہلی دہلی کے علاقے جعفرآباد میں ایک واقعہ پیش آیا ، جس میں کچھ ہندو انتہا پسندوں نے 23 سالہ ساحل نامی ہندو لڑکے کو مسلمان سمجھ کر شدید تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے بعد نوجوان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

ساحل کی والدہ سنگیتا کا کہنا تھا کہ اس کا بیٹا اپنے دوست کے بھائی کی مدد کرنے گیا تھا، جس کو سنجے چندربھان نامی شخص اور اس کا بیٹا تنگ کر رہے تھے، ساحل نے سنجے سے اِلتجا کی کہ اس کے دوست کے بھائی کو جانے دو لیکن سنجے نے ساحل کی ایک نہ سنی۔

دوسری جانب ساحل کے والد سنیل سنگھ کا کہنا تھا کہ میرا بیٹا اپنے دوست کی سالگرہ میں سے گھر واپس آرہا تھا تو راستے میں سنجے چندربھان اور اس کے بیٹے نے ساحل کو روکا اور پوچھا کہ تم پنڈتوں کی گلی سے کیوں جا رہے ہو؟

ساحل کے والد کے مطابق سنجے چندربھان نشے کی حالت میں تھا، جب ساحل نے اس کے سوال کا جواب نہیں دیا تو سنجے نے اس کی موٹر سائیکل کی چابی نکال لی، جب میرا بیٹا چابی واپس لینے لگا تو اس کے دوست نے ساحل کا نام لیتے ہوئے کہا کہ ساحل ہم کل آکر اِن کا مقابلہ کریں گے۔

ساحل کا نام سنتے ہی سنجے کو لگا کہ یہ مسلمان ہے اور پھر اس نے نوجوان کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔

ساحل کی والدہ نے بتایا اس کا بیٹا زخمی حالت میں گھر آیا اور اس نے پورا واقعہ بتایا، جس کے بعد وہ اپنی والدہ کی گود میں گِرا اور بے ہوش ہوگیا، نوجوان کو بے ہوشی کی حالت میں اسپتال لے جایا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔

مقتول کے والدین کا کہنا تھا کہ ہمارے بیٹے کو صرف اِس وجہ سے قتل کیا گیا ہے کیونکہ وہ پنڈتوں والی گلی سے گزر رہا تھا اور ساحل نام ہونے کی وجہ سے ہمارے بیٹے کو مسلمان سمجھ کر قتل کردیا۔

بھارتی پولیس کے مطابق یہ واقعہ مذہبی اور فرقہ وارانہ نہیں تھا، واقعے میں ملوث دو ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں