52

کراچی کو ٹھیک کرنے کیلئے ایمرجنسی نافذ کرنا ہوگی،علی زیدی

وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی نے کہا ہے کہ کراچی میں ایمرجنسی نافذ کیے بغیرشہر کو صاف نہیں کیا جاسکتا ہے۔

انہوں نے یہ بیان اپنی ایک ٹویٹ میں کیا ۔ علی زیدی نے کراچی کے علاقے بوٹ بیسن اور کیماڑی کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پر شیئرکیں۔

اپنی ٹویٹ میں علی زیدی نے کہا کہ کراچی کو ٹھیک کرنے کے لیے یہاں ایمرجنسی نافذ کی جانی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک کراچی ٹھیک نہیں ہوگا ملک کا معاشی استحکام خواب رہے گا

یاد رہے کہ دو روز قبل ایک انٹرویو میں علی زیدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کسی مہم کے ذریعے کراچی کا کچرا صاف نہیں ہو سکتا۔ نالے صاف کرنے کا یہ مقصد تھا کہ عوام کے گھروں میں پانی نہ جائے ، نالوں کی صفائی کے لیے ایف ڈبلیو او کو ذمہ داری دی۔

انہوں نے کہا تھا کہ کراچی کے نالوں میں کچرا کون ڈال رہا ہے۔ اس کے ثبوت میرے پاس ہیں۔ میئر کراچی کے ماتحت لوگ ان سے جھوٹ بول رہے ہیں۔نالے صاف کرنے میں ساڑھے 6 کروڑ روپے لگے ۔البتہ ناصرشاہ کہتے ہیں کہ میں نے وسیم اختر کو 50 کروڑ روپے دئیے ۔ سٹی حکومت کے ڈسٹرکٹ سینٹرل کے اپنے لوگ کچرا ڈال رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ سینٹرل میں بحریہ ٹاؤن کی ٹیموں کے ساتھ میں نے صفائی کی تھی۔

علی زیدی کا یہ بھی کہنا تھا کہ کراچی میں 11 گاربیج ٹرانسفرسٹیشن نہیں ہیں۔ صرف 5 گاربیج ٹرانسفرسٹیشن ہیں۔ 11 کا دعویٰ غلط ہے ۔ اگر گاربیج ٹرانسفر سٹیشن نکل آئے تو میں مستعفی ہو جاؤں گا۔ انہوں نے کہا کہ ناصر شاہ وزیر بلدیات رہیں گے تو کراچی کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں