49

یکم محرم الحرام،شہادتِ حضرت عمر بن خطاب ؓ

ایک طرف نظام حکومت اور فتوحات میں مساوات،مذہبی روادادی اور عدل و انصاف اپنی انتہا پر ہو،اور دوسری طرف تقویٰ اور بصیرت بھی اپنے پورے کمال پر ہو،تاریخ میں اس حوالے سے سیدنا فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کوئی ثانی نظر نہیں آتا، جن کا آج یوم شہادت عقیدت و احترا م کے ساتھ منایا جارہا ہے۔

آپ کا نام عمر اور لقب فاروق یعنی سچ اور جھوٹ میں فرق کرنےوالا ہے ۔ آپؓ 37قبل ہجرت مکہ میں پیدا ہوئے۔ خاندانی شجرہ آٹھویں پشت میں حضور سے ملتا ہے ۔

خلیفہ ثانی کے قبول اسلام کی دعا رسول پاک نے کی۔حضرت عمر بن خطاب نے 27برس کی عمر میں اسلام قبول کیا ۔

انہوں نے اپنے دورخلافت میں مصر ۔ایران ۔روم ۔اور شام جیسےبڑے ملک فتح کیے۔قبلہ اول بیت المقدس بھی حضرت عمر بن خطاب ؓ ہی کے دور میں لڑائی کے بغیر فتح ہوا۔آپ ؓکوعشرہ و مبشرہ میں شامل ہونے کا شرف بھی حاصل ہے ۔

حضرت عمر فاروق کے دور میں سب سے بڑی اسلامی سلطنت قائم ہوئی ۔

مزید پڑھیں: محرم کے آغاز کے ساتھ ہی دنیا بھر میں مجالس کا سلسلہ شروع

آپ کے دور خلافت میں اسلامی سلطنت کی حدود 22لاکھ مربع میل تک پھیلی ہوئی تھیں آپ کے اندازِحکمرانی کودیکھ کر ایک غیر مسلم یہ کہنے پہ مجبور ہوگیاکہ اگر عمر کو 10سال خلافت کے اور ملتے تو دنیا سے کفر کانام ونشان مٹ جاتا۔

حضرت عمر فاروقؓ کا مشہور قول ہے کہ ’’اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کُتا بھی پیاسا مر گیا تو عمر سے پوچھا جائے گا۔‘‘

انہوں نے موجودہ جمہوری نظام کی بنیاد ڈالی تھی۔صوبوں اور اضلاع کی تقسیم سے لے کر تعلیم ۔فوج ۔پولیس ۔ڈاک اور پبلک سروس تک کے تمام ضابطے اور محکمے حضرت عمرکے دور میں قائم ہوئے۔حضرت عمر ؓ کے دور میں عدل و انصاف کا بول بالا تھا ۔

ستائس ذوالحج سنہ 23 ہجری کو حضرت عمر نماز فجر کی امامت کررہے تھے کہ ابولولوفیروز نامی مجوسی نے آپ کو زہر آلود خنجر سے زخمی کردیا۔

حضرت عمرتین دن موت وزیست کی کشمکش میں مبتلا رہنےکے بعد یکم محرم چوبیس ہجری کو شہید ہوگئے۔

آپ ؓ رسول اکر م ﷺ کےپہلو میں مدفون ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں