54

ارشد ملک ویڈیواسکینڈل، سپریم کورٹ نےکیس کافیصلہ سنادیا

سپریم کورٹ کی جانب سے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک وڈیواسکینڈل کیس کافیصلہ سنادیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق کیس کی سماعت چیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ جسٹس شیخ عظمت اورجسٹس عمر عطابندھیال بھی بنچ میں موجودرہے۔

جج ارشد ملک وڈیواسکینڈل کیس کافیصلہ سپریم کورٹ آف پاکستان کےچیف جسٹس آصف سعیدکھوسہ نےپڑھ کرسنایا۔

کمرہ عدالت میں کیس کی سماعت کےدوران وڈیواسکینڈل کافیصلہ سناتےہوئےچیف جسٹس کاکہناتھا کہ معاملےمیں پانچ ایشو کا سپریم کورٹ نے احاطہ کیا ہے۔

چیف جسٹس نےعدالتی فیصلےکاپہلانکتہ بیان کرتے ہوئے ریمارکس دیےکہ ویڈیواصلی ہے یانقلی،اسکافیصلہ نہیں ہوا۔ ویڈیو اگراصلی ہے تواسے کیسےعدالت میں ثابت کیا جاسکتا ہے۔

مزید پڑھیں: پہلے اغوا پھر گندا دھندا، نوجوان لڑکیوں کو نشے کا عادی بنا کر جسم فروشی کروانے والی گروہ کی سرغنہ پکڑی گئی

چیف جسٹس کاکہناتھا کہ وہ ویڈیو کس طرح نوازشریف کیس پراثراندازہوسکتی ہے، تفصیلی فیصلےمیں جج کے کنڈکٹ کا معاملہ بھی موجود ہے،دیکھناہوگاجج ارشدملک کا کنڈکٹ کیا تھا اورویڈیوکےمنظرعام پرآنےکےبعدنوازشریف کےلیےکونسی عدالت اورفورم موجود ہوگا۔

چیف جسٹس کاریمارکس دیتےہوئےکہناتھاکہ یہ بھی دیکھناہوگا،وہ کون سا فورم ہےجس پراس ویڈیو کو دیکھا جاسکتا ہے۔

چیف جسٹس نےفیصلہ سناتے ہوئےکہ یہ نکتہ بھی اجاگرکیاکہ دیکھناہوگاویڈیوکیس سےکتنی متعلقہ ہےاورکتنی مصدقہ بطورمصدقہ شہادت استعمال ہوسکتی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہاگیا کہ اگرویڈیوحقیقی شہادت ہےتوکیا یہ متعلقہ عدالت میں بطورثبوت پیش ہوسکتی ہے۔

چیف جسٹس کاکہناتھاکہ کیس سے متعلق دیگرتمام تفصیلات تفصیلی فیصلے میں لکھ دی ہیں۔

سپریم کورٹ میں احتساب عدالت کےجج ارشد ملک اسکینڈل کیس کا تفصیلی فیصلہ عدالت عظمیٰ کی ویب سائٹ پر جاری کردیاگیاہے۔

چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سےہدایت جاری کی گئی ہےکہ ارشد ملک اسکینڈل کیس کا فیصلہ میڈیااور فریقین سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پردیکھیں۔

مزید پڑھیں: “کیا آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ ۔ ۔ ۔ ” معذرت کے باوجود تنقید ہونے پر میکا سنگھ کا صبر جواب دے گیا، بھارتی میڈیا نمائندگان کو کھری کھردی سنادیں

واضح رہے کہ عدالت عظمیٰ نےتین روزقبل احتساب عدالت کے جج ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل کیس کافیصلہ محفوظ کیاتھا۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سےاعلامیہ جاری کیاگیاجس میں بھی لاہورہائیکورٹ کوجج ارشد ملک کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

جج ارشد ملک سےمتعلق وڈیواسکینڈل کب سامنےآیا؟

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی اعلیٰ قیادت نے6جولائی 2019کوایک پریس کانفرنس کی جس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس میں سزا کوکالعدم قراردیتے ہوئے کہا گیاکہ سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ جج ارشد ملک کو نوازشریف کوسزاسنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔

وڈیوکوبینادبناتےہوئےنوازشریف کی صاحبزادی اورسبق حکمراں جماعت کی نائب صدرمریم نواز نے مطالبہ کیا کہ جج ارشد ملک نے خود اعتراف کیاہےلہٰذا نوازشریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دیاجائےاورانہیں فوری طور پررہا کیا جائے۔

تاہم اگلے روز ہی جج ارشد ملک نے ایک پریس ریلیزکرتے ہوئےاپنےاوپرعائد الزامات کی تردید کی اور مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی،فرضی اور جھوٹ پرمبنی قرار دیا۔

مزید پڑھیں: بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کا طیارہ پاکستانی حدود میں آنے کا انکشاف، فرانس پہنچ گئے

ویڈیواسکینڈل سے متعلق کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم عمران خان نے مؤقف اپنایا کہ سپریم کورٹ کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے۔ وزیراعظم کے بیان کے بعد جج ارشد ملک کی اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق سے ملاقات ہوئی، اس کے بعد قائمقام چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق نے چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید کھوسہ سے ملاقات کی۔

ان اہم ملاقاتوں کے بعد 12 جولائی 2019 کو اسلام آباد ہائیکورٹ کے قائمقام چیف جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا جس کے بعد وزرات قانون نے ان کو مزید کام سے روکتے ہوئے ان کی خدمات لاہور ہائیکورٹ کو واپس کردیں۔

بعد ازاں جج ارشد ملک کی جانب سے ایک بیان حلفی بھی منظرعام پر آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے انہیں رشوت کی پیشکش کی۔

جج ارشد ملک کے بیان حلفی میں بتایا گیاکہ وہ مئی 2019 کوخاندان کے ساتھ عمرے پر گئے، یکم جون کوناصر بٹ سےمسجد نبویؐ کے باہرملاقات ہوئی، ناصر بٹ نےذاتی وڈیوزکاحوالہ دے کربلیک میل کیا۔

بیان حلفی کےمطابق ارشد ملک کوحسین نوازسے ملاقات کرنے پربھی اصرار کیا گیا جس پر انہوں نے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا، حسین نواز نے 50 کروڑ روپے رشوت کی پیشکش کی اور پورے خاندان کو برطانیہ، کینیڈا یا مرضی کے کسی اور ملک میں سیٹل کرانے کا کہا گیا، بچوں کیلئے ملازمت اور انہیں منافع بخش کاروبار کرانے کی بھی پیشکش کی گئی۔

مزید پڑھیں: پاکستانی نژاد باکسر عامر خان کا کشمیر جانے کا اعلان

بعد ازاں ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل سے متعلق سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی جس کے بعد کیس 16 جولائی کو سماعت کیلئے مقرر کیاگیا۔ اس حوالے سے تین رکنی بنچ قائم کیا گیا جس کے سربراہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطاء بندیال کوشامل کیاگیا۔

اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر2 کے جج ارشد ملک اہم کیسز کی سماعت کررہے تھے جن میں سابق صدر آصف زرداری کے خلاف جعلی اکاؤنٹس کیس، سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے خلاف رینٹل پاور کیس اور سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف ریفرنس بھی شامل تھا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کو جج ارشد ملک نے العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں بری کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

ارشد ملک ویڈیواسکینڈل، سپریم کورٹ نےکیس کافیصلہ سنادیا” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں