39

کشمیرپرظالمانہ اقدامات کی مخالفت،سابق بھارتی وزیرچدم برم گرفتار

سچ بولنا،آئینہ دکھانا اورحقیقت کاپردہ چاک کرناسابق بھارتی وزیرداخلہ کولےڈوبا، بھارتی کانگریس کے رہنماپی چدم برم کومقبوضہ کشمیرمیں بھارت کےاقدامات کی مخالفت کرنامہنگا پڑگیا اورانہیں مودی سرکار کی جانب سےگرفتارکرلیاگیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی میڈیاکاکہناہے کہ کانگریس رہنما کی گرفتاری ٹیلی وژن کمپنی آئی این ایکس میڈیامنی لانڈرنگ کےمعاملےمیں دہلی ہائیکورٹ سے حفاظتی ضمانت مسترد ہونے پرکی گئی۔

سابق بھارتی وزیر کوان کےگھرسےگرفتارکیاگیا۔سی بی آئی اہلکاران کے گھرکی دیوارپھلانگ کرداخل ہوئے تھے۔ جس کےبعد انہیں سینٹرل بیورو آگ انویسٹی گیشن (سی بی آئی) ہیڈ کوارٹرلےجایاگیا۔

سابق وزیرداخلہ مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہونےکے بعد اوروہاں بھارتی مظالم پر مسلسل بیانات بھی دیتے رہے ہیں۔

دو روز قبل بھی کانگریس رہنمانےمائیکروبلاگنگ ویب سائٹ ٹویٹرپربیان جاری کرتے ہوئے مودی سرکار پر تنقید کے نشتر برسائے تھے۔

ایک ٹویٹ میں چدم برم کاکہناتھا کہ جموں و کشمیرمیں حالات بالکل سازگار ہیں،اسکول کھلے ہیں لیکن کوئی طالبعلم موجود نہیں، جموں کشمیر کے حالات سازگار ہیں لیکن وہاں انٹرنیٹ دوبارہ بندکردیاگیا۔

انہوں نےکہاکہ مقبوضہ کشمیرمیں سب کچھ ٹھیک ہے،بس محبوبہ مفتی کی بیٹی نظربند ہیں اور جب وہ سوال کرتی ہیں توکوئی جواب نہیں آتا۔

واضح رہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت کاسلسلہ رک نہ سکا، مقبوضہ وادی میں کرفیوکےنفاذکو18روزہوگئے۔معصوم کشمیری اب بھی گھروں میں محصورکھانے پینے کی قلت کاشکارہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کےمطابق مقبوضہ جموں وکشمیرمیں کرفیو کے باوجود سری نگر سمیت متعدد اضلاع میں بھارتی اقدام کیخلاف معصوم اور نہتےکشمیریوں کااحتجاج جاری ہےجس میں خواتین سمیت ہزاروں افرادشریک ہیں۔ بزدل مودی سرکار نےاحتجاج کے دوران 40سے زائد کشمیریوں کوگرفتار کرلیا۔

نہتے کشمیریوں کےاحتجاج کے دوران بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ گنز، آنسو گیس، شیلنگ سے متعدد کشمیری زخمی ہوگئے۔
مقبوضہ کشمیرمیں انٹرنیٹ ،موبائل سروس، ٹی وی نشریات بدستور معطل ہیں جبکہ حریت رہنماوں کوبھارتی فورسز نےدہلی کی تہاڑجیل میں قید کررکھاہے۔محبوبہ مفتی سمیت سابق وزرائے اعلیٰ گھروں میں نظربندہیں۔

مقبوضہ وادی میں مظلوم کشمیریوں کودواؤں ،کھانےپینےکی اشیا کی شدید قلت کاسامناہے۔مقبوضہ وادی کےباسی اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوگئے۔ مقبوضہ وادی میں نظام زندگی بری طرح مفلوج ہوگیا۔

بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو5 اگست کوحکمران انتہا پسندجماعت بے جے پی نےآرٹیکل 370 راجیہ سبھا میں پیش کرنےسےپہلے ہی یک طرفہ فیصلے کے تحت صدارتی حکم نامہ جاری کرکےختم کردیا۔

بھارت نےکشمیریوں کے خصوصی حقوق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370کو ختم کرکے مقبوضہ جموں وکشمیراور لداخ کودولخت کرکے بھارتی یونین میں شامل کرلیا۔

بھارت کے اس اقدام کودنیا بھرمیں انتہا پسندی کی نظرسے دیکھا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں