27

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی مظالم بےلگام،کرفیوکو17روزہوگئے

مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی جارحیت کاسلسلہ جاری، مقبوضہ وادی میں کرفیوکےنفاذکو17روزہوگئے۔معصوم کشمیری اب بھی گھروں میں محصورکھانے پینے کی قلت کاشکارہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کےمطابق مقبوضہ جموں وکشمیرمیں کرفیو کے باوجود سری نگر سمیت متعدد اضلاع میں بھارتی اقدام کیخلاف معصوم اور نہتےکشمیریوں کااحتجاج جاری ہےجس میں خواتین سمیت ہزاروں افرادشریک ہیں۔

نہتے کشمیریوں کےاحتجاج کے دوران بھارتی فورسز کی جانب سے پیلٹ گنز، آنسو گیس، شیلنگ سے متعدد کشمیری زخمی ہوگئے۔

مقبوضہ کشمیرمیں انٹرنیٹ ،موبائل سروس، ٹی وی نشریات بدستور معطل ہیں جبکہ حریت رہنماوں کوبھارتی فورسز نےدہلی کی تہاڑجیل میں قید کررکھاہے۔محبوبہ مفتی سمیت سابق وزرائے اعلیٰ گھروں میں نظربندہیں۔

مقبوضہ وادی میں مظلوم کشمیریوں کودواؤں ،کھانےپینےکی اشیا کی شدید قلت کاسامناہے۔مقبوضہ وادی کےباسی اپنی بنیادی ضروریات سے بھی محروم ہوگئے۔ مقبوضہ وادی میں نظام زندگی بری طرح مفلوج ہوگیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےکشمیر کےمسئلہ پر پاکستان اور بھارت کےمابین کشیدہ صورتحال کم کرنے کے لیے ایک بار پھر ثالثی کی پیشکش کردی ہے۔

وہائٹ ہاوس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ کشمیرایک سنجیدہ مسئلہ ہے، کشمیرمیں صورت حال بہت پیچیدہ ہیں جو کہ کئی دہائیوں سےچلتی آرہی ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی ختم کرانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ثالثی اور مدد کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ کچھ عرصہ پہلے وزیراعظم عمران خان امریکا آئے ان سے ملاقات ہو چکی اور اب میں نریندر مودی سے اس ہفتے فرانس میں ملاقات کروں گا۔

بھارت کی جانب سے کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کو5 اگست کوحکمران انتہا پسندجماعت بے جے پی نےآرٹیکل 370 راجیہ سبھا میں پیش کرنےسےپہلے ہی یک طرفہ فیصلے کے تحت صدارتی حکم نامہ جاری کرکےختم کردیا۔

بھارت نےکشمیریوں کے خصوصی حقوق سے متعلق آئین کے آرٹیکل 370کو ختم کرکے مقبوضہ جموں وکشمیراور لداخ کودولخت کرکے بھارتی یونین میں شامل کرلیا۔

بھارت کے اس اقدام کودنیا بھرمیں انتہا پسندی کی نظرسے دیکھا جارہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں