37

وفاقی وزیرشیریں مزاری نےپریانکاچوپڑاکیخلاف یونیسیف کوخط لکھ دیا

وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نےیونیسف کوخط لکھ کربھارتی اداکارہ اوراقوام متحدہ میں امن کی سفیر پریانکاچوپڑا کی ساکھ پرسوالات اٹھادیے۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیرنےخط میں پریانکا چوپڑا کواقوام متحدہ گڈول سفیروں کی فہرست سے خارج کرنےکا مطالبہ کیا ہے۔

ڈاکٹرشیریں مزاری نےخط میں وضاحت دیتے ہوئے کہاکہ اقوام متحدہ کی گُڈوِل سفیرایٹمی جنگ کی نہ صرف حامی ہیں بلکہ اسکی حمایت میں منفی پروپیگنڈا بھی کررہی ہیں۔

ڈاکٹرشیریں مزاری کاکہناتھاکہ بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا امن سے زیادہ جنگ کا پیغام دے رہی ہیں اور یونیسیف کی گڈول سفیر ہونے کے باوجود کشیدگی کےاس ماحول میں مودی حکومت اوربھارتی فوج کےایٹمی جنگ کےارادے کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

وفاقی وزیرنے خط میں مزیداظہار خیال کرتے ہوئےتحریر کیاکہ پریانکا چوپڑا کا رویہ جانبدار ہےاوراقوام متحدہ کی ساکھ پر سوالات اٹھاتا ہے۔

شیریں مزاری نےکشمیریوں کی جانب توجہ دلاتے ہوئےمزیدلکھاکہ مقبوضہ کشمیرمیں مودی حکومت مسلمانوں کی نسل کشی کر رہی ہے۔ بھارتی حکومت کشمیرمیں بچوں اور عورتوں کے خلاف پروپیگنڈا کر رہی ہےاور باقاعدہ طے شدہ منصوبے کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف نفرت کو ابھاراجارہا ہے۔

اس سے قبل پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ آرمینا خان نےبھی یونیسیف سے بھارتی اداکارہ پریانکا چوپڑا سے امن کی سفیر کا اعزاز واپس لینے کا مطالبہ کیاہے۔

آرمینا خان نےیونیسیف کی ایگزیکیٹو ڈائریکٹر (ای ڈی) ہینریٹا ایچ فوری کے نام کھلا خط تحریر کیا تھا جس میں بھارتی اداکارہ پریانکاسےامن کی سفیر کااعزاز واپس لینے کامطالبہ کیاگیا۔

آرمینا خان نے کہا کہ ادارے فنکاروں کے سحر میں اتنا نہ گرفتار ہوجائیں کہ انہیں اپنے غیرجانبداری کے اصولوں پر سمجھوتا کرنا پڑے۔

ارمینا نے یونیسیف کی ای ڈی سے استفسار کیا کہ کیا یونیسیف جنگ کی حمایت کرنے والی جانبدار شخصیات کو امن کا سفیر رکھنا چاہتا ہے؟

پاکستانی اداکارہ نے کہا کہ پریانکا نے سوشل میڈیا پر کشمیر تنازع پر کشیدگی کو اکسایا جبکہ پاکستانی خاتون عائشہ ملک کے ساتھ ہتک آمیز رویہ بھی اپنایا۔

آرمینا خان نے کہا کہ بھارتی اداکارہ نے یونیسیف کی بنیادی اقدار کو ٹھیس پہنچا کر ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستانی اداکارہ مہوش حیات نے بھی بھارتی اداکارہ کیخلاف امریکی نشریاتی ادارے میں کالم لکھا جس میں ان کا کہناتھا کہ پریانکا چوپڑا حب الوطنی کا لبادہ اوڑھ کر نسل پرستی کو ہوا دے رہی ہیں۔

مہوش حیات نے کہا کہ ایک شخصیت جو کہ کسی فلاحی ادارے کی ترجمانی کر رہی ہو انہیں ہمیشہ انسانیت کے فروغ کی بات کرنی چاہیے اور پریانکا یونیسیف کی امن کی سفیر ہیں انہیں ایسے شخص کے بیان کی حمایت نہیں کرنی چاہیے جو آپ کے مشن کے خلاف ہے۔

مہوش حیات نے کہا کہ ہالی ووڈ میں بھی نفرت انگیزی نظر آتی ہے لیکن بالی ووڈ میں مسلم دشمنی اور مسلمانوں سے نفرت انگیزی کا عنصر بہت زیادہ ہے، بھارت کے وزیر اعظم مودی نے پرتشدد اور سخت گیر رویے کو فلم انڈسٹری میں داخل کر دیا ہے اور ایسے حالات میں پاکستانی فنکاروں کا بالی ووڈ میں کام کرنا مشکل ہے کیوں کہ بالی ووڈ انڈسٹری اوپر سے نیچے تک اسلام سے نفرت میں ڈوبی ہوئی ہے۔

واضح رہےکہ حال ہی میں امریکی شہر لاس اینجلس میں منعقد کی جانے والی ایک تقریب میں ایک پاکستانی نژاد لڑکی نےبالی ووڈ فلم اسٹار پریانکا چوپڑا کو منافق قراردیاتھا. تقریب کے دوران پاکستانی نژاد عائشہ ملک نامی لڑکی نے پریانکا چوپڑا کی ماضی کی پاکستان سے جنگ کےخلاف ٹویٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسا بہت ہی کم ہوا کہ ہےکہ آپ نے امن اورانسانیت کی بات کی ہو۔

عائشہ ملک نے پرینکا چوپڑا سے جنگ کی حمایت میں کی جانے والی ٹویٹ کی جانب اشارہ کرتے سوال کیا کہ ’آپ اقوامِ متحدہ کی گڈ ول سفیر ہیں اور آپ دو ہمسائیوں کے بیچ نیوکلئیر جنگ کی حمایت کررہی ہیں؟ایسی بات کرنا افسوسناک ہے۔

عائشہ کا مزید کہنا تھا کہ ایسی جنگ میں جیت کسی کی نہیں ہوتی اور پاکستان میں آپ کے لاکھوں مداح ہیں جو کہ آپ کی ٹویٹ سے بہت دکھی ہوئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں