40

امریکی صدر ٹرمپ مسئلہ کشمیر پر ثالثی کیلئے میدان میں آ گئے

وزیراعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہواہے، جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر بات چیت کی گئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر سے جاری اپنے پیغام میں امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان اور بھارت سے کشمیر پر کشیدگی کم کرنےکی درخواست کی ہے اور اس حوالے سے بات چیت مثبت رہی ۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے مسئلہ کشمیر پر نریندر مودی اور عمران خان دونو ں سے بات کی ہے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں سے تجارت اور اسٹرٹیجک معاملات پر بھی ان کی بات چیت ہوئی ہے،اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان صورتحال بہت خراب ہے لیکن ان کی گفتگو اچھی رہی ہے۔

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ رات پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان اور امریکی صدر ٹرمپ کے درمیان 16 اگست اور پیر کی رات 10 بجے ٹیلی فونک رابطہ ہواہے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے امریکی صدر کو آگاہ کیا کہ بھارت کے یکطرفہ فیصلے کا مقصد بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع علاقے کی خصوصی حیثیت اور وہاں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔

وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ گفتگو کے دوران عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ مقبوضہ وادی میں کرفیو جلد ہٹایا جائے، اقوام متحدہ مبصر مشن بھیجے جائیں اور اس بحران کا حل نکالا جائے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر ٹرمپ عالمی تنظیموں کے ساتھ بھارتی حکومت کے وعدوں کی پاسداری کے لیے اپناکردار ادا کریں۔

دوسری جانب گزشتہ روز ٹرمپ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو بھی فون کیا تھا جس میں انہوں نے مودی پر پاک بھارت تناؤ کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کے دورہ امریکہ کے دوران ہونی والی ملاقات میں مسئلہ کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی تھی۔

انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ بھارتی وزیراعظم نے ایک ملاقات کے دوران مسئلہ کشمیر پر انہیں ثالثی کا کردار ادا کرنے کا کہا۔

ٹرمپ نے کہا کہ یہ مسئلہ طویل عرصے سے موجود ہے اور میں یہ جان کر بہت حیران بھی ہوا کہ اس خوبصورت علاقے میں روزانہ بم گرائے جاتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں