30

نیب جعلی دستاویزات پرکارروائی کرسکتا ہے،سپریم کورٹ

اسلام آباد (اب نیوز) سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ نیب جعلی دستاویزات پرتعیناتی کرنے اوراس سے فائدہ لینے والوں کیخلاف کارروائی کرسکتا ہے،نیب قوانین کے تحت جعلی دستاویزات پر14 سال سزا ہوسکتی ہے، تفصیلات کے مطابق جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں بنچ نے جعلی دستاویزات کیس میں ملزم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی،وکیل نیب نے دلائل دیتے ہوئے کہاکہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کے امتحان میں جعلی میرٹ لسٹ بنائی گئی، 272 میں سے 28 افراد کو بغیر اپلائی کیے فائنل لسٹ میں شامل کیا گیا، وکیل ملزم نے کہا کہ یہ کیس نیب کا بنتا ہی نہیں، دفعہ 420 اور471 نیب قوانین سے نکال دیے گئے ہیں، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ نیب جعلی دستاویزات پرتعیناتی کرنے اوراس سے فائدہ لینے والوں کیخلاف کارروائی کرسکتا ہے،وکیل ملزم نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کے بعد جعلی دستاویزات پرتعینات ہونے والوں کیخلاف کارروائی نہیں ہوسکتی، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا یہ قانون ختم ہوگیا ہے کہ جعلی دستاویزات پر کارروائی ہوگی؟وکیل ملزم نے کہا کہ اس مقدمے کیلئے اینٹی کرپشن سمیت دیگر فورمز موجود ہیں، کیا پاکستان میں کارروائی کیلئے صرف نیب ہی واحد ادارہ رہ گیا ہے، اگر ایسا ہے تو سارے اداروں کے مقدمات نیب کو دے دیں، میرا موکل یاسر پنجاب پولیس میں سٹینو گرافر ہے، عدالت کیس کے حتمی فیصلے تک ضمانت منظور کرے، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ضمانت کیلئے کوئی غیرمعمولی حالات نہیں، عدالت نے ملزم یاسر علی کی درخواست ضمانت واپس لینے کی بنیاد پر خارج کر دی،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ٹرائل زیر التوا ہے جلد مکمل کیا جائے،نیب قوانین کے تحت جعلی دستاویزات پر14 سال سزا ہوسکتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں