23

جب عدالت توہین نہیں مان رہی تو زبردستی کی توہین کیسے ہوسکتی ہے،سپریم کورٹ نے سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ پشاورکیخلاف درخواست خارج کردی

اسلام آباد(اب نیوز)سپریم کورٹ نے سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ پشاورکیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے ہیں کہ پشاور ہائیکورٹ کہتی ہے اس کے کسی حکم کی توہین نہیں ہوئی،جب عدالت توہین نہیں مان رہی تو زبردستی کی توہین کیسے ہو سکتی ہے۔تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ سیکرٹری پشاور کیخلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ کچھ غلط ہوا تو سول کورٹ جائیں،یہ توہین عدالت کا مقدمہ کیسے ہوگیا،عدالت کہہ رہی ہے ہماری توہین نہیں ہوئی،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ عدالت کو گردن سے پکڑ کرکہہ رہے ہیں نہیں، عدالت کی توہین ہوئی ہے،توہین عدالت کا معاملہ عدالت اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے،عدالت سمجھتی ہے توہین نہیں ہوئی تو نجی شخص اس فیصلے کےخلاف اپیل کیسے کرسکتا ہے۔سپریم کورٹ نے سیکرٹری پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ سیکرٹریٹ پشاورکیخلاف توہین عدالت کی درخواست خارج کردی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں