28

’کے الیکٹرک کراچی والوں کی کھال تک اتار لے جائیگا‘

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کےایم سی) اور کے الیکٹرک میں بلوں کی عدم ادائیگی کے تنازعہ میں سپریم کورٹ نے چیف سیکریٹری کو کل اجلاس بلاکر مسئلہ حل کرنے کی ہدایت کردی۔

میئر کراچی نےعدالت میں کہا کہ اختیارات نہیں دینے تھے تو مئیر بنانے کا کیا فائدہ۔ نمائندہ سندھ حکومت نے بتایا کہ حکومت نےواجبات کے سلسلے میں 34 کروڑ روپے جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک کوئی فلاحی ادارہ نہیں۔ یہ یہاں پیسہ کمانے آئے ہیں۔ یہ پورے کراچی والوں کی کھال تک اتار کر لے جائیں گے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں کے الیکٹرک اور کے ایم سی میں بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے معاملے کی سماعت ہوئی۔

میئر کراچی عدالت میں پھٹ پڑے ۔ کہا میں تو کہتا ہوں الیکشن کرانے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اختیارات نہیں دینے تھے تو مئیر بنانے کا فائدہ؟ یہ تو انہوں نے سپریم کورٹ کے حکم پر الیکشن کرا دیے۔

سیکریٹری بلدیات نے کہا کہ اگر یہ کام کریں تو ان سے زیادہ با اختیار ادارہ کوئی نہیں۔ مئیر کراچی اور کے ایم سی حکام اجلاس میں نہیں آتے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ منتخب مئیر ہیں ،اب آپ انہیں اپنے دفاتر میں طلب کریں گے؟آپ کو ان کے پاس خود چل کر جانا چاہئے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک کوئی فلاحی ادارہ نہیں۔ یہ یہاں پیسہ کمانے آئے ہیں۔ کے الیکٹرک نے جتنا کمانا تھا کما لیا۔ اب یہ پورے کراچی والوں کی کھال تک اتار کر لے جائیں گے۔

میئر کراچی نے کہا کہ کے الیکٹرک کو پول، کیبلز اور کرائے کی مد میں کے ایم سی کے 7 ارب روپے دینا ہیں۔

دوران سماعت عدالت نے میئر کراچی سے کہا کہ آپ کے ملازمین اور افسر بھی مفت بجلی استعمال کرتے ہیں۔ پیسے نہیں تو موم بتی اور لالیٹن کا استعمال کریں۔ نمائندہ سندھ حکومت نے بتایا کہ حکومت نےواجبات کے سلسلے میں 34 کروڑ روپے جاری کردیئے ہیں۔

مئیر کراچی وسیم اختر نے احاطہ عدالت میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں بھی کے الیکٹرک پر خوب دل کی بھڑاس نکالی ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں