37

مسئلہ کشمیر میں ثالثی کردار ادا کرسکتے ہیں ،ڈونلڈ ٹرمپ

وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان اورامریکی صدر ٹرمپ کے درمیان ون آن ملاقات ہوئی ۔

اس موقع پرامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کو انتہائی خوشگوار دیکھ رہا ہوں،امید ہےملاقات کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ۔

امریکی صدرنےعمران خان سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر میں ثالثی کی پیشکش کردی،انھوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدہ تعلقات کاعلم ہے۔

ملاقات میں امریکی صدر نے کہا کہ مسئلہ کشمیرپرنریندرمودی سےبھی بات کروں گا کیونکہ کشمیرکامسئلہ حل ہوگاتوپورےخطےمیں خوشحالی ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ بات چیت کے لئے تیار ہے، پاکستان کی نیت پر کسی کو شک نہیں ہونا چائیے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کیلئے امریکا انتہائی اہمیت کا حامل ملک ہے، دہشتگردی کے خلاف ہم نے مشترکہ جنگ لڑی ہےاور ہم پاکستان اورامریکا کے درمیان بہتر مفاہمت چاہتے ہیں۔

عمران خان نے امریکی صدر سے بات کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ 9/11کےبعدامریکااورپاکستان دہشتگردی کیخلاف پارٹنررہےاور دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستان نے70ہزارجانوں کی قربانی دی ہے ۔

ڈونلڈٹرمپ کا کہنا تھا کہ پاکستان ماضی کےبرعکس اب امریکاکامددگار ہے اور پاکستان کے لوگ بہت مضبوط ہیں ،امریکاپاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میری اور عمران خان کی نئی قیادت آئی ہےاورعمران خان پاکستان کےانتہائی مقبول وزیراعظم ہیں ۔

امریکی صدر نے یہ بھی کہا کہ دورۂ پاکستان کی دعوت دی جائے گی تو پاکستان ضرور جاؤں گا۔

ملاقات کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے کردار کو سراہا۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان کے معاملات پر پاکستان ہمارے ساتھ بہترین تعاون کر رہا ہے، افغانستان کےمعاملےپرپاکستان کےپاس وہ طاقت ہےجودیگرممالک کےپاس نہیں اور پاکستان افغانستان میں مستقبل میں لاکھوں جانیں بچانے کا سبب بنے گا۔

امریکی صدر کا مزید کہنا تھاکہ افغانستان میں اپنی فوج کی تعدادکم کررہےہیں اور افغانستان سےفوجی انخلا کیلئے پاکستان کاتعاون بہت ضروری ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان نےافغان جنگ میں صف اول ملک کاکرداراداکیا، پاکستان دیگر ممالک سے زیادہ افغانستان میں امن چاہتا ہےاور افغانستان میں امن پاکستان کیلئے بھی ضروری ہے، دہشتگردی کےخلاف جنگ میں پاکستان سےزیادہ کسی نےقربانی نہیں دی۔

انھوں نے کہا کہ امید ہےکہ افغانستان میں طالبان امن کیلئےبات چیت کریں گے، پاکستان افغانستان میں امن کاخواہاں ہےاور ہم افغان امن معاہدےکےقریب پہنچ چکےہیں۔

وزیراعظم عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ افغان مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے، ہمارا کردار طالبان اور افغان حکومت کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے۔

ملاقت میں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی بھی موجود ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں