30

قوم حوصلہ رکھے، برا وقت ہے مگر گزر جائے گا، عمران خان

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کرپٹ افراد کی بے نامی جائیداد ضبط کرکےغریبوں پرخرچ کریں گے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں‌ نے میانوالی ایکسپریس کے افتتاح‌ کے موقع پر کیا. ان کا کہنا تھا کہ ہمارا مقصد یہی ہے کہ عام آدمی کے لئے آسانی پیدا کی جائے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ حکومت ملی، تو ملک مقروض تھا، مگر اب آسانیاں ہوگئی ہیں، ہمیں قرضوں کی قسطیں دینے کے لئے مزید قرضے لینے پڑے، قرضوں پر سود دینے کے لئے قرضے لینے پڑے، مشکل وقت تھا۔

انھوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ریلوے کے ایم ایل ون کا ایم او یو سائن کیا ہے، ایم ایل ون سےکراچی سے لاہور کا سفر صرف 8 گھنٹے کا ہوجائے گا، ایم ایل ون پاکستان میں انقلاب لائے گا۔

انھوں نے کہا کہ میانوالی نے مجھے تب جتایا، جب کہیں سے بھی ووٹ نہیں ملے، پیچھے رہ جانے والے علاقوں کو ہمیں اوپر اٹھانا ہے، اسپتال ٹھیک کرنے ہیں، پانی کا مسئلہ بھی حل کرنا ہے، حکومت کے 5 سال پورے ہونے پر آپ دیکھیں گے کہ میانوالی کیا تھا اور اب کیا بننے جا رہا ہے۔

اس سے قبل میانوالی میں اسپتال کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ سارے کہتے ہیں مہنگائی ہوگئی ،یہ ڈالر کے باہر جانے سے ہوا ہے۔ ساری قوم کو کہتا ہوں برا وقت ہے مگر گزر جائے گا، پاکستان جلد تیزی سے اوپر جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں لوگوں کی فلاح کےلیے کام کیے جائیں گے، ہم نے صحت اور تعلیم پر ان حالات میں بھی پیسا لگایا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ بڑے تاجروں سے درخواست کرتا ہوں آپ ایک ایک بڑے اسپتال کی ذمہ داری لے لیں، ہم پیسہ خرچ کریں گے آپ ان کا اضافی خرچہ اٹھائیں ، ہمارے پاس ابھی اتنا پیسا نہیں کہ ہم اسپتال چلا سکیں۔

عمران خان نے اپوزیشن پر تنقید کے نشتر چلاتے ہوئے کہا شور مچایا جارہا ہے کہ انتقامی کارروائی ہورہی ہے، جمہوری اقدار میں سربراہ جواب دہ ہوتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں نے عدالت میں 10 مہینے تک جواب دیا ہے، جواب دہ ہونا جمہوریت کا عمل ہے، ان کو بھی جواب دینا ہے یہ تین، تین بار وزیر اعظم رہے ہیں ۔ ہم نے اگر طاقتور کا حساب کردیا تو لوگ منی لانڈرنگ کرتے ہوئے خوف زدہ ہوں گے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہمارا حال یہ کہ قرضوں کا سود دینے کےلیے قرضہ لینا پڑھ رہاہے ، جب تک قرض لینے والوں کا احتساب نہیں ہوگا ملک ترقی نہیں کرسکتا ، احتساب ہوگا اور طاقتور کا بھی ہوگا ۔

ان ک کہنا تھا کہ کیا ملک میں ہم نے ایسا کوئی کام کیا جس سے قرضے اتار سکیں ، جو پروجیکٹ بنے اس سے الٹا نقصان ہی ہورہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں