42

مرحوم میاں محمد شوکت کی یاد میں

حیدرآباد کے عظیم قائد، سابق رکن قومی اسمبلی مرحوم میاں محمد شوکت حیدرآباد کے شہریوں کے دلوں میں آج بھی بستے ہیں۔لطیف آباد کو آباد کرنے میں میاں صاحب کا کردار بہت اہم تھا۔شہر میں خصوصا لطیف آباد میں شاید ہی کوئی ایسا جنازہ اٹھتا ہو جس میں شوکت صاحب شہر میں ہونے کے باوجود شرکت نہ کرتے ہوں۔ جماعت اسلامی کے کارکنان آج بھی میاں صاحب کے تذکرہ کرتے نہیں تھکتے ہیں۔ میاں شوکت صاحب کی وفات کے بعد جماعت اسلامی حیدرآباد میں قیادت کا جو خلاء پیدا ہوا وہ آج تک پْر نہیں ہو سکا۔ میاں شوکت صاحب کی سب سے بڑی خوبی انکی منکسرالمزاجی تھی۔

انانیت نام کی کوئی چیز ان میں ذرہ برابر بھی نہ تھی۔ غالبا ً 1988 میں جب اسوقت کے ناظم اعلیٰ جمعیت سراج الحق بھائی 13 اگست کی شام مشعل بردار جلوس کی قیادت کیلئے حیدرآباد تشریف لائے تو ظہرانہ پر ہم نے انکی میاں شوکت صاحب سے ملاقات کا اہتمام کیا۔ اس میں انہوں نے سیاسی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ ایم کیو ایم کے مطالبات جائز ہیں تاہم ان کا طریقہ کار غلط ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مہاجروں کے مطالبات کوئی اور جماعت نہیں اٹھائے گی ایم کیو ایم زندہ رہے گی۔

ہم لوگوں نے کہا کہ میاں صاحب ہمارے گھر والے بہت پریشان رہتے ہیں کہ ہم جمعیت کی مصروفیات میں دیوانے ہوگئے ہیں۔ میاں صاحب نے کہا کہ آپ لوگ دیوانے نہیں بلکہ فرزانے ہوگئے ہو کیونکہ یہ دیوانگی شعور کیساتھ ہے۔ ہم نے لطیف آباد نمبر #7 میں عاصم شیخ اور صارم شیخ بھائی کی چھت پر انکے اور انکے یار غار مرحوم حکیم مظہرالدین بقائی صاحب کیساتھ تاریخ جماعت پاکستان اور تاریخ جماعت اسلامی حیدرآباد کے عنوان سے نشستیں رکھی تھیں جو رکارڈ بھی کی گئیں تھیں۔ شاید آج بھی دفتر جمعیت میں انکے کیسٹ دستیاب ہوں۔ اللہ سبحانہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے آمین ثم آمین۔

میاں شوکت صاحب کے بارے میں محترم عطاء محمد تبسم بھائی کا تحریر کردہ جولائی 2016 کا ایک مضمون پیش خدمت ہے۔جزاک اللہ، عطا تبسم بھائی…….

میاں محمد شوکت کی برسی اس بار بھی 14 جولائی کو خاموشی سے گذر گئی۔ جیسے میاں صاحب اس شہر سے خاموشی سے چلے گئے۔ اب تو نسیم السحر بھی انھیں یاد نہیں کرتا۔ میاں محمد شوکت حیدرآباد میں رواداری، محبت، سیاست، مخالفین سے شفقت، کی ایک ایسی داستان چھوڑ گئے ہیں، جو ہمیشہ یاد آتی رہے گی۔ 1985ء میں مہاجر سیاست کے علمبرداروں نے ان کے خلاف ایک ہی نعرہ لگایا کہ وہ مہاجر نہیں ہیں اور مہاجر کا ووٹ مہاجر کے لئے ہے۔ مگر جب ایم کیو ایم کے میئر آفتاب احمد شیخ پر قاتلانہ حملہ ہوا تو میاں محمد شوکت ان کی اپنی لیڈر شپ سے بھی پہلے ان کے پاس کھڑے تھے۔

اس طرح ایم کیو ایم کے سابق رکن صوبائی اسمبلی اور موجودہ ڈپٹی میئر سہیل مشہدی کے چھوٹے بھائی فیصل مشہدی لطیف آباد نمبر# 8 حیدر آباد میں فائرنگ کا نشانہ بنے تو میاں صاحب سہیل مشہدی اور ان کے والد پروفیسر محمود رضوی سے مشتعل اور کشیدہ صورتحال میں بھی تعزیت کرنے کے لئے گئے تھے۔ 1987ء میں جماعت اسلامی حیدر آباد کے دفتر پر مسلح حملہ ہوا تھا۔ اس کی ایف آئی آر میں ایم کیو ایم کے لوگ نامزد تھے۔1992ء میں ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن میں حکومت اس ایف آئی آر کو استعمال کرنا چاہتی تھی۔ تو میاں صاحب نے جماعت کے لوگوں کو مشوہ دیا کہ ہمیں اس گھڑی میں ان کے خلاف فریق نہیں بننا چاہئے۔ جماعت کے لوگ ان لوگوں کے خلاف شادت نہ دیں جنہیں حکومت ایم کیو ایم سے تعلق کی بنا پر پھنسانا چاہتی ہے۔ اس کیس کی سماعت جیل میں کی گئی تھی۔

میاں صاحب کو جیل میں گواہی اور ملزموں کو شناخت کے لئے بلایا گیا تو میاں صاحب نے گواہی دینے اور ملزموں کو شناخت کرنے کے بجائے الٹا جج سے سوال کر دیا کہ حکومت کو 1987ء کا کیس 1993ء میں کیسے یاد آ گیا؟ جس پر میئر آفتاب شیخ اور ایم کیو ایم کے دوسرے اسیران حیران و ششدر رہ گئے، یہی معاملہ میاں صاحب نے حیدر آباد کے تالپور برادران کے ساتھ بھی اس وقت کیا جب میر رسول بخش تالپور اپنے بڑے بھائی میر علی احمد تالپور کے بھٹو سے اختلاف کے بعد سندھ کی گورنری چھوڑ کر حیدر آباد پہنچے تھے۔

میر رسول بخش تالپور جب گورنر تھے تو پیپلزپارٹی کی حکومت نے میاں محمد شوکت کو چھوٹے کیس میں گرفتار کر کے جیل میں ناگفتہ بہ حال میں رکھا تھا۔ رسول بخش تالپور گورنری سے الگ ہو کر جب حیدر آباد پہنچے تو میاں صاحب ان کا استقبال کرنے کے لئے حیدر آباد اسٹیشن پر موجود تھے۔

میاں شوکت صاحب نے ایوب خان کی بھی جیل کاٹی اور ذوالفقار علی بھٹو کی بھی اور 1987 میں جنرل ضیاء کی بھی۔ جب بھی ان لوگوں پر کوئی مشکل گھڑی آئی تو میاں صاحب نے صاحب عزیمت لوگوں کی طرح دکھ پہنچانے والوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ رکھا۔

میاں صاحب حیدر آباد لطیف آباد نمبر # 7 میں سادگی سے چار مرلے کے مکان میں رہے، البتہ تعلیمی اداروں کی تعمیر و ترقی کا شوق رہا۔ شاہ ولی اللہ کالج منصورہ بالا ضلع حیدر آباد کے قایم اور تعمیر میں ان کا بڑا کردار رہا۔ مدرسہ ریاض العلوم اور مسجد رحمانیہ کی تعمیر انہی کی نگرانی میں ہوئی اور اس مسجد کے صدر اور سیکریٹری بھی رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں