32

معیشت کا کوہ ہمالیہ

پاکستان کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ معیشت کا کوہ ہمالیہ کیسے سر ہو گا۔ انتہائی برے کاروباری حالات کی وجہ سے تاجروں اور کاروباری کمیونٹی کی ہڑتال پورے ملک میں کامیاب رہی ہے اورہرشہر میں شٹر ڈاؤن دیکھنے میں آیا ہے بڑی مارکیٹیں اور کاروباری مراکز بند رہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عمران خان کے نئے پاکستان میں عوام پریشان ہیں کہ مہنگائی کا جن قابو نہیں آ رہا، کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیں،فیکٹریاں بند ہو رہی ہیں، روزگار کے مواقع بڑھنے کی بجائے سکڑتے جا رہے ہیں اور حکمران دعویٰ کر رہے ہیں کہ وہ معیشت کا کوہ ہمالیہ سر کریں گے۔دوسری طرف جب سے بجٹ آیا ہے ہمارے حکمران دن رات ڈرا نے دھمکانے میں لگے ہوئے ہیں کہ کچھ ہو جائے وہ عوام کی ہڈیوں کے گودے سے بھی ٹیکس نکالیں گے۔

پہلے ہی لوگوں کے کاروبار بند پڑے ہیں اور حکومت ٹیکس کی دھمکیوں سے نیچے بات کرنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ کوئی عمران خان کو یہ سمجھانے والا نہیں ہے کہ ٹیکس ڈنڈے سے نہیں، لوگوں کو اعتماد دینے سے اکٹھا ہوتا ہے۔ ڈکٹیشن لینے کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر یہ حکم آئے کہ سارے کام ڈنڈے سے کرنے ہیں تو عقل پر ہاتھ مارنے کی بجائے حکمران ڈنڈا چلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ڈنڈا چلانے کا نقصان بھی خود حکومت کو ہوتا ہے کیونکہ خوف و ہراس کے ماحول میں کسی کام کا اچھا نتیجہ نہیں نکلتا۔ سرمایہ دار اپنا سرمایہ روک لیتے ہیں، پرانے پراجیکٹ رک جاتے ہیں اور نئے شروع نہیں ہوتے، بیوروکریسی گھونگے کی طرح خول میں گھس جاتی ہے، ساری مشینری مفلوج ہو جاتی ہے، کاروبار رکنے کی وجہ سے بیروزگاری بہت بڑھ جاتی ہے، افراطِ زر کنٹرول کرنا بہت مشکل ہو جاتا ہے، بیرونی سرمایہ کار آنا تو دور کی بات دیکھنا بھی چھوڑ دیتے ہیں اور عوام وہ گھن بن جاتے ہیں جس نے ہر صورت پسنا ہی ہوتا ہے۔ ایسے ماحول میں جب ایک طرف زیادہ سے زیادہ ٹیکس لگانے کی کوشش کی جائے اور دوسری طرف میڈیا کے منہ پرکس کرکپڑا باندھ دیا جائے کہ اس کا دم گھٹنا شروع ہو جائے تو معیشت تباہ ہونے کی وجہ سے ملک بہت پیچھے چلا جاتا ہے۔

تحریک انصاف کی حکومت کا ایک سال پورا ہونے والا ہے۔یہ حکومت سو دن میں نئے پاکستان کے لالی پاپ سے شروع ہوئی تھی لیکن انہیں جلد احساس ہو گیا کہ سو دن میں تو نیا پاکستان نہیں بن سکتا اس لئے پینترا بدلا اور کہا کہ انہوں نے سو دن میں روڈ میپ دینے کی بات کی تھی۔ عوام سو دن میں روڈ میپ لینے پرراضی ہو گئے۔ سو دن گذرے تو دارالحکومت کے کنونشن سنٹر میں وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ اور ان کی ٹیم بہت مصروف تھی لیکن بہت جلد نتائج کی توقع نہ رکھیں۔ عوام چونکہ سمجھ چکے تھے کہ اب تک کی گئی ساری باتیں محض باتوں کی حد تک ہی ہیں اس لئے وہ جلد کی توقع نہ رکھنے پر بھی راضی ہو گئے۔

وزیراعظم نے اس پروگرام کے دوران بتایا کہ یہ پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ ملک کی معیشت کی باگ ڈور اسد عمر کے ہاتھ میں ہے جو ملک کی اقتصادیات کی ازسر نو تعمیر کرنے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ عوام کی ساری توقعات اسد عمر سے وابستہ ہو گئیں۔ جوں جوں وقت گذرتا رہا لوگوں کو محسوس ہونا شروع ہو گیا کہ حکومت میں اتنی صلاحیت ہی نہیں ہے کہ معیشت کے پہاڑ کی چوٹی سر کر سکے لیکن بہر حال وہ اسد عمر کی طرف دیکھتے رہے۔ الیکشن سے پہلے یہ بھی بتایا گیا تھا کہ عمران خان کے پاس دو سو ماہرین کی ایک ٹیم ہے جو ملکی معیشت کو بہترین انداز میں درست کر دے گی اس لئے اسد عمر کے ساتھ ساتھ لوگ ان دو سو ماہرین کی ٹیم کا انتظار بھی کرتے رہے۔

اسی دوران ایک دن اسد عمر نے ٹی وی پر آ کر یہ بھی بتایا کہ الیکشن سے پہلے ہم نے لوٹ مار کے جو دو سو ارب ڈالربیرونی ملکوں سے پاکستان واپس لانے تھے وہ نہیں آ سکیں گے کیونکہ یہ ساری کہانی ہی غلط تھی۔ لوگوں کو کچھ مایوسی ضرور ہوئی کیونکہ پی ٹی آئی کے ایک اور اہم لیڈر مراد سعید اعلان کیا کرتے تھے کہ عمران خان پہلے دن دو سو ارب ڈالر واپس لے آئے گا اوردوسرے دن سو ارب ڈالر ان ملکوں کے منہ پر مارے گا جن کے ہم نے قرضے واپس کرنے ہیں اور باقی کے سو ارب ڈالر سے ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہائی جائیں گی۔ خیر، عوام کو اسد عمر سے توقعات تھیں کہ ایک دن اچانک پتہ چلا کہ عمران خان نے اسد عمر کی چھٹی کر دی ہے اور حکومت سنبھالنے کے آٹھ مہینے بعد معیشت کے پہاڑکی چوٹی سرکرنے کے لئے آئی ایم ایف کی ٹیم امپورٹ کر لی ہے۔ مشیرخزانہ اور گورنر سٹیٹ بینک نے آٹھ مہینے ضائع ہونے کے بعد دوبارہ صفر سے معاشی سفرکا آغاز کیا، گویا پی ٹی آئی حکومت کے پہلے آٹھ مہینے ضائع ہو گئے۔

وزیر اعظم اور کاروباری طبقہ ایک پیج پر ابھی تک نہیں آ سکے۔ کراچی میں ہونے والی ملاقات کا بھی کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ کاروباری طبقہ اپنے مسائل حل کرانے کے لئے وزیر اعظم سے ملا تھا لیکن ہر سوال کے جواب میں ’کسی کو NRO نہیں دوں گا‘ کی تکرار سن کر مایوس لوٹ گیا۔ وزیراعظم کے اعصاب پر NROاس طرح سوار ہے کہ سیاست کی بات کی جائے تو جواب آتا ہے کہ کسی کو NRO نہیں دوں گا۔ صنعت کار، سرمایہ کار، تاجر راہنما یا بیرون ملک پاکستانیوں کے نمائندے جب کاروباری اور سرمایہ کاری کے مسائل کے حل کے لئے وزیر اعظم کو ملتے ہیں تو بھی یہی جواب آتا ہے کہ کسی کو NRO نہیں دوں گا۔ کاشتکاروں اور زراعت پیشہ لوگوں کے لئے بھی یہی جواب ہے، میڈیا سے ملاقات ہو یا کوئی غیر ملکی سربراہ یا اس کا نمائندہ، ہر کوئی وزیر اعظم سے یہی جواب سن کر واپس لوٹتا ہے۔ یہی صورت حال رہی تو مجھے لگتا ہے جب ان سے پوچھا جائے گا کہ صبح ناشتہ میں کیا لیں گے تو جواب ملے گا کہ NRO نہیں دوں گا یا رات کو کھانے کے لئے ان کی پسند پوچھنے پر بھی یہی جواب ملے گا۔

غیر سنجیدگی کا یہ عالم ہے کہ ایک دن ریونیو کے وزیر مملکت حماد اظہر کو مکمل وزیر بناتی ہے اور ریونیو کا محکمہ دیتی ہے اور اگلے ہی دن ان کا قلمدان تبدیل کرکے اقتصادی امور کا وزیر بنا دیتی ہے۔ پی ٹی آئی حکومت اور ایف بی آر کے چیئرمین شبر زیدی ٹیکس اکٹھا کرنے کے لئے دھمکی آمیز لہجہ اپنائے ہوئے ہیں۔گزرے مالی سال میں ایف بی آر ٹارگٹ سے بہت کم ٹیکس اکٹھا کر سکا ہے لیکن اگلے سال اس کے ٹارگٹ میں 1500 ارب کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ بات یہ نہیں ہے کہ لوگ ٹیکس دینا نہیں چاہتے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ لوگوں کا حکومت پر اعتماد نہیں ہے کہ وہ عوام کے ٹیکس سے اکٹھا کیا گیا پیسہ عوام پر خرچ کرے گی۔ ٹیکس لوگوں میں اعتماد پیدا کر کے اکٹھا کیا جا سکتا ہے، ڈنڈے سے ٹیکس اکٹھا کرنا ممکن نہیں ہے۔

اصل نکتہ یہ ہے کہ جب لوگوں کو اس بات کا یقین ہو کہ ان کا پیسہ ان پر، ان کے بچوں پر اور اس ملک پر خرچ ہونے کی بجائے حکمرانوں کے اللوں تللوں پر خرچ ہو گا تو وہ ٹیکس دینے میں ہچکچائیں گے۔ دوسری بات یہ کہ ٹیکس دینے کے بعد بھی اگر عوام کو ریلیف ملنے کی بجائے سرکاری عملہ کی زیادتیوں کا نشانہ بننا پڑے تو لوگوں میں ٹیکس دینے کی خواہش پیدا نہیں ہوگی۔ جب حکمران جماعت ٹیکس کے پیسوں سے ہارس ٹریڈنگ کرے، اپوزیشن ممبران اسمبلی کو خریدنے کے لئے بنی گالا بلایا جائے اور سینیٹ چئیرمین کے الیکشن میں اربوں کی خرید وفروخت ہو تو عوام کا ٹیکس دینے کے لئے اعتماد نہیں پیدا ہو گا۔ سب جانتے ہیں کہ اس وقت سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے 67 اور حکومتی اتحادیوں کے 36سینیٹر ہیں۔ آنے والے دنوں میں اگر حکومتی سینیٹرز کی تعداد اپوزیشن سینیٹرز سے بڑھ گئی تو اس کا صاف صاف مطلب یہ ہو گا کہ عوام کے ٹیکس کے اربوں روپوں سے گھوڑے خریدے گئے ہیں۔ آخری بات یہی کہ اگرحکومت کو عوام کا اعتماد نہ ہو تو وہ معیشت کا کوہ ہمالہ کبھی سر نہیں کر سکتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں