30

کے 4 پروجیکٹ میں بدترین غفلت کا انکشاف

کراچی: ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کو پانی کی فراہمی کے لیے بنائے جانے والے سب سے بڑے منصوبے کے فور میں منصوبہ بندی کے فقدان اور بدترین غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔

تفصیلات کے مطابق صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی کو پانی کی فراہمی کے منصوبے کے 4 پر انکوائری رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو پیش کردی گئی۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر سیکریٹری ایکسائز اعجاز احمد مہیسر نے 6 ماہ میں رپورٹ تیار کی۔

رپورٹ میں کے فور پروجیکٹ میں آغاز سے ہی منصوبہ بندی کے فقدان اور بدترین غفلت کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق منصوبے کا پی سی ٹو کسی پیشہ وارانہ دستاویز کے بجائے بچوں کا کام لگتا ہے، پروجیکٹ کنسلٹنٹ عثمانی اینڈ کمپنی منصوبے کی اہل ہی نہیں تھی۔ کنسلٹنٹ کمپنی نے پی سی ون کی تیاری میں خامیوں کا اعتراف کیا ہے۔

وزیر اعلیٰ کو پیش کی گئی رپورٹ میں کہا گیا کہ کمپنی معاہدے کے مطابق کام کر سکی نہ ہی غیر ملکی تکنیکی ماہرین کی ٹیم لا سکی، کنسلٹنٹ کمپنی نے حیران کن طور پر ناقابل عمل روٹ اختیار کیا۔ کے فور پراجیکٹ ڈائریکٹر نے خامیوں کے باوجود کمپنی سے معاہدہ ختم نہیں کیا۔

رپورٹ کے مطابق منصوبہ منتقل کرتے ہوئے مزید کئی حصوں کو منصوبے سے نکال دیا گیا، تاخیر اور روپے کی قدر گرنے سے منصوبے کی لاگت میں ہوش ربا اضافہ ہوا۔ واٹر بورڈ کے افسران بھی منصوبے کی خامیوں کی نشاندہی نہ کر سکے۔

رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ فزیبلیٹی بنانے والی کنسلٹنٹ کمپنی کی نگرانی کے لیے بھی تقرری کی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں