31

روہنگیا مسلمانوں کا قتل، میانمار کے فوجی سربراہ پر امریکا میں داخلے پر پابندی عائد

امریکا نے میانمار کی فوج کے سربراہ سمیت 3 سینئر جنرلز پر امریکا میں داخلے پر پابندی عائد کردی ہے ۔

برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر امریکا کی جانب سے فوج کے سربراہ اور دیگر تین سینئر جنرلز سمیت ان کے خاندانوں پر بھی امریکا میں داخلے پر پابندی لگادی ہے۔

اس حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہےکہ ان فوجی افسران کے 2017 میں میانمار میں روہنگیا اقلیت پر کریک ڈاؤن میں ملوث ہونے کے شواہد موجود ہیں جبکہ یہ مظالم اب بھی جاری ہیں۔

مائیک پومپیو نے مزید کہاکہ میانمار کی حکومت کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور مظالم کے ذمہ داروں کے خلاف ایکشن نہ لینے پر تشویش ہے ۔

امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا واحد ملک ہے جس نے میانمار کی ملٹری لیڈرشپ کے خلاف ایکشن لیا ۔

دوسری جانب میانمار کی حکومت اور فوج نے امریکی پابندی کی مذمت کی ہے ۔

واضح رہےکہ 2017 میں میانمار میں مظالم کے باعث 7 لاکھ روہنگیا مسلمانوں نے علاقے سے ہجرت کی، اس دوران نہ صرف لوگوں کو قتل کیا گیا بلکہ کئی دیہاتوں کو بھی آگ لگادی گئی اور اقوام متحدہ کی جانب سے اس قتل و غارت پر فوجی حکام سے تفتیش کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں