43

عالمی عدالت نے کلبھوشن کی رہائی کی درخواست مسترد کردی

عالمی عدالت انصاف نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیوکی رہائی کی درخواست مسترد کردی ۔

تفصیلات کے مطابق عالمی عدالت انصاف کے جج عبدالقوی احمد یوسف نے حاضر سروس بھارتی نیوی کمانڈر دہشتگرد کلبھوشن یادیو کے کیس کا محفوظ کیا جانے والا فیصلہ سنایا ۔

عدالت نے کلبھوشن یادیو کی رہائی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اسے پاکستان کی تحویل میں ہی رکھنے کا حکم دے دیا ۔

جج عبدالقوی احمد یوسف نے فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بھارت ویانا کنونشن کے رکن ہیں اور دونوں ممالک پورے کیس میں ایک بات پر متفق رہے کہ کلبھوشن بھارتی شہری ہے۔بھارت نے ویانا کنونشن کے تحت کلبھوشن یادیو تک قونصلر رسائی مانگی جبکہ پاکستان نے بھارتی مطالبے پر تین اعتراضات پیش کیے پاکستان کا موقف تھا کہ جاسوسی اور دہشتگردی گردی کے مقدمے میں قونصلر رسائی نہیں دی جاتی۔

عدالت کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جن الزامات کی بنیاد پر قونصلر رسائی روکی ہے ان کا واضح تعلق سامنے نہیں لایا گیا، ویانا کنونشن جاسوسی کرنےوالےقیدیوں کوقونصلر رسائی سےمحروم نہیں کرتا ،لہذا پاکستان کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی فراہم کرے۔

عالمی عدالت نے پاکستان کو کلبھوشن یادیو کی سزائے موت پر نظر ثانی کرنے کا بھی حکم دے دیا ۔

واضح رہے کہ کلبھوشن یادیو کو 3 مارچ 2016 کو بلوچستان کے علاقے سے گرفتار کیا گیا تھا، اس پر پاکستان میں دہشت گردی اور جاسوسی کے سنگین الزامات ہیں اور بھارتی جاسوس نے تمام الزامات کا مجسٹریٹ کے سامنے اعتراف بھی کیا ہے۔

4اپریل 2017 کو کلبھوشن یادیوکو جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنائی گی تھی۔

لیکن بھارت کی جانب سے عالمی عدالت میں معاملہ لے جانے کے سبب کلبھوشن کی سزا پر عمل درآمد روک دیا گیا ہے۔

عالمی عدالت میں کلبھوشن کیس کی آخری سماعت 18 سے 21 فروری 2019تک ہوئی تھی جس میں بھارت اور پاکستان کے وفود نے شرکت کی تھی۔

بھارتی وفد کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری دیپک متل نے کی تھی جب کہ پاکستانی وفد کی سربراہی اٹارنی جنرل انور منصور خان کر رہے تھے۔

عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن یادیوسے متعلق کیس کا فیصلہ 21 فروری کو محفوظ کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں