37

44سال بعد کامیابی

انگلینڈ نے آخر کار کیویز کو عالمی کپ کے فائنل میں شکست سے دوچار کرتے ہوئے ٹرافی پر قبضہ کرلیا۔اس ایونٹ کے ہونے والے تمام سنسنی خیز مقابلوں،یہ میں سب سے بڑا سنسنی خیز مقابلہ تھا جس میں انگلینڈ نے ایک اوور میں زیادہ باؤنڈریز لگانے پر ٹرافی اپنے نام کی۔

اب جبکہ ٹرافی انگلینڈ کے حوالے ہو چکی ہے اور نیوزی لینڈ بھی اپنے وطن روانہ ہو چکی ہو گی لیکن ایک بات طے ہے کہ آئی سی سی نے یہ ٹورنا منٹ انگلینڈ کے لیے اناؤنس کیا اور اس کی جیت پر ہی ختم کروا کر دم لیا۔ایک عصاب شکن،دل کی دھڑکنیں روکنے اور تھرلنگ فائنل شائقین کو مدتوں یاد رہے گا کہ جس کا فیصلہ سپر اوور میں ہوا اور وہ بھی برابری کی بنیاد کے بعد زیادہ باؤنڈریز لگانے پر انگلینڈ کے نام رہا اور 44سال بعد انگلینڈ نے ترلے منتوں سے یہ ایونٹ آئی سی سی کے اشتراک سے جیتا۔

کیویز نے پہلے کھیلتے ہوئے مقررہ اوور میں 241رنز کا ٹارگٹ انگلینڈ کو دیا جس کو حاصل کرتے ہوئے انگلینڈ نے بھی مقررہ اوور میں 241رنز بنا کر میچ برابر کر دیا جبکہ میچ سے قبل یہ پیشن گوئی کی گئی تھی کہ یہاں 275 سکور فتح گر ثابت ہو سکتا ہے جو میچ کے اختتام کے بعد سچ ثابت ہوئی۔

خیر برابری کے بعد میچ سپر اوور پر منتقل کر دیا گیا۔انگلینڈ نے پہلے کھیلتے ہوئے ایک اوور میں پندرہ رنز بنائے۔کیویز ہدف کے تعاقب میں آخری گیند پر درکار دو رنز بنانے سے قاصر رہی اور ڈبل رنز لیتے ہوئے رن آؤٹ ہونے کے بعد میچ پھر برابری پر ختم ہوا، لیکن آئی سی سی نے انگلینڈ کو فائدہ دیتے ہوئے میچ انہی کے نام کر دیا۔

کیویز کی جانب سے میچ میں بھر پور مقابلہ دیکھنے کو ملا جو قابل ستائش ہے۔ اس مقابلے کے بعد ان کے ملک کے لوگوں کو اپنی ٹیم کا استقبال جیتی ہوئی ٹیم کی طرح کرنے میں کوئی دقت نہیں ہونی چاہیے۔مارٹن گپٹل کی تھرو پر ملنے والے چار اضافی رنز نے کیویز کی محنت پر پانی پھیر دیا حالانکہ اگر وہ تھرو دو رنز ہونے کے بعد بھی کرتے تو شاید گیند سیدھی ہاتھوں میں ہوتی۔

لیکن ایسا نہ ہو سکا جس پر شائقین کرکٹ کو بہت مایوسی ہوئی پر مقابلہ تو خوب کیا گیا،جبکہ انگلینڈ کی جانب سے بین سٹوکس اور بٹلر نے کسی بھی موقع پر اپنے اوسان خطا ء نہ ہونے دیئے اور ایک مشکل فتح کو آسان بنانے میں اہم کردار اد ا کیا۔آئی سی سی کے ناقص رولز کے باعث اچھے بھلے ایونٹ کا مزاکرکرا کر دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں