36

اطالوی پولیس کی نیونازی گروپ کے خلاف کارروائی، اسلحے کی کھیپ برآمد

روم : اٹلی میں نیو فاشسٹ سیاسی جماعت کے خلاف پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کرکےاسلحے کی بڑیکھیپ قبضے میں لے لی۔

تفصیلات کے مطابق کو اطالوی حکام نے نیو فاشسٹ پارٹی فورزا نووا کے جو افراد حراست میں لیے ہیں، ان میں ایک ایسا شخص بھی شامل ہے جسے اس سیاسی جماعت نے انتخابات میں اپنا امیدوار بنایا تھا۔اس منظم کارروائی کے دوران ایک مکان پر بھی چھاپا مارا گیا تھا۔اسی کریک ڈاؤن کے دوران پولیس نے اسکارپین مشین گن، آتشین اسلحے میں استعمال ہونے والے تین سو چھ اجزاء ، بیس لمبی سنگینیں (رائفل کی نالی پر چڑھانے والی بینٹ) اور مختلف قسم کے ہتھیاروں کے لیے آٹھ سو گولیاں اپنے قبضے میں لی ہیں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ قبضے میں لیے گئے تمام ہتھیار جرمنی، آسٹرین اور امریکی کے ساختہ ہیں،جس گھر پر چھاپا مارا گیا وہاں سے نیو نازی پروپیگنڈے پر مشتمل مواد بھی دستیاب ہوا ہے۔پولیس نے یہ بھی بتایا کہ ایک انتہائی اچھی حالت میں فضا سے فضا میں مار کرنے والا میزائل بھی دستیاب ہوا ہے،یہ میزائل کسی وقت قطری فوج کے زیر استعمال رہا تھا، اسی آپریشن کے دوران خود کار رائفلوں کی کھیپ بھی پکڑی گئی ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا تھا کہ اس کارروائی کے دوران سوئٹزرلینڈ کے بیالیس سالہ شہری اور اکاون سالہ اطالوی باشندے کو حراست میں لیا گیا ہےجن سے پولیس نے تفتیش شروع کردی ہے۔

میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اطالوی انتہا پسندوں کے روس نواز مشرقی یوکرائنی باغیوں کے ساتھ مل کر لڑائی میں شامل ہونے کے معاملے کی چھان بین بھی جاری ہے۔فی الوقت اطالوی پولیس نے دہشت گردی کے امکان پر غور نہیں کیا ہے۔اٹلی کے انسداد دہشت گردی کے ایک اہلکار کے مطابق بظاہر ابتدائی معلومات سے ایسے شواہد سامنے نہیں آئے کہ یہ تمام ہتھیار روم حکومت کے خلاف یا ملک کے اندر استعمال کرنے کے لیے جمع کیے گئے تھے۔پولیس نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس اسلحے کی فروخت میں تین افراد ملوث تھے اور وہ یورپی انتہا پسندوں کو رابطے میں لا کر یہ ہتھیار فروخت کرنے کی کوشش میں تھے، یہ بھی بتایا گیا کہ اس بروقت کارروائی سے ان ہتھیاروں کی مزید فروخت کو روک دیا گیا ہے۔

اطالوی پولیس نے نیو فاشسٹ پارٹی کے خلاف کی جانے والی کارروائی کو ایک اہم مشن قرار دیا ہے،انتہا پسندی اطالوی سیاسی جماعت فورزا نووا پارٹی نے ان ہتھیاروں سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے، اسی طرح انتہائی دائیں بازو کے وزیر داخلہ اور نائب وزیراعظم ماتیو سالوینی نے بھی اس کارروائی پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں