46

شہباز شریف پر برطانوی اخبار کا الزام

برطانیہ کے کثیر الاشاعت اخبار ’’دی میل‘‘ نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور ان کے خاندان پر زلزلہ زدگان کی بحالی کے لئے برطانیہ سے ملی گرانٹ میں خورد برد کا الزام لگایا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہباز شریف ‘ ان کے خاندان کے بعض افراد اور قریبی لوگ 500ملین پائونڈ کی رقم کو 2005ء کے زلزلہ متاثرین کی امداد کی بجائے منی لانڈرنگ کے لئے استعمال کرتے رہے۔ مسلم لیگ ن اور خود شہباز شریف نے برطانوی اخبار کی رپورٹ کو گمراہ کن اور من گھڑت قرار دے کر اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ شہباز شریف نے وزیر اعظم عمران خان اور ایسٹ ریکوری یونٹ کے سربراہ شہزاد اکبر پر الزام عائد کیا ہے کہ یہ رپورٹ ان کے ایما پر شائع کی گئی ہے۔ پاکستان کی سیاست میں نئی ہلچل مچانے والے اس خبر کی برطانوی ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ نے تردید کی ہے۔ برطانوی محکمے کا کہنا ہے کہ ’’دی میل آن سنڈے‘‘ نے اپنی رپورٹ کو ناکافی ثبوتوں کے ساتھ شائع کیا۔مسلم لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب اس معاملے کو من گھڑت قرار دینے کی جو دلیل پیش کرتی ہیں اس کے مطابق ’’پاکستان میں زلزلہ 2005ء میں آیا۔ اس وقت جنرل پرویز مشرف حکمران تھے‘‘۔ ن لیگ کی ترجمان کہتی ہیں کہ’’ رپورٹر ڈیوڈ روز نے بنی گالہ میں بیٹھ کر یہ کہانی تیار کی‘‘۔ ان کا کہنا ہے کہ’’ زلزلے سے زیادہ تر کے پی کے اور آزاد کشمیر کے علاقے تباہ ہوئے۔ پنجاب میں اس کے اثرات شدید نہیں تھے‘‘۔ مسلم لیگ ن کی ترجمان کا مزید کہنا ہے کہ’’ زلزلہ متاثرین کے لئے غیر ملکی امداد’’ایرا‘‘ کے ذریعے استعمال ہوتی ہے۔ ایرا کا انتظامی کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس ہے۔2007ء سے 2013ء تک وفاق میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اس لئے شہباز شریف پر الزام بے بنیاد ہے۔ رپورٹر ڈیوڈ روز نے رپورٹ میں جو تفصیلات بیان کی ہیں ان کے مطابق برطانیہ اور متحدہ عرب امارات سے 202بار ترسیلات زر ہوئیں۔ یہ رقوم شہباز شریف کی اہلیہ‘ دونوں بیٹوں اور دونوں بیٹیوں کے اکائونٹس میں جمع کرائی گئیں۔ برمنگھم سے منظور احمد نامی شخص نے بیگم نصرت شہباز‘ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کو 1.2ملین پائونڈ پر مشتمل 13ادائیگیاں کیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک دوسرا شخص محبوب علی تھا جو لاہور کی گلیوں میں پھیری لگانے والا محنت کش بتایا گیا ہے۔ اس نے برمنگھم سے HSBCکے ذریعے شہباز شریف کے خاندان کو 850000پائونڈ ارسال کئے۔ رپورٹر ڈیوڈ روز کا دعویٰ ہے کہ وہ محبوب علی سے مل چکا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی محکمہ DFIDسے 54ملین پائونڈ وصول کرنے والے ایراکے سابق فنانس ڈائریکٹر کے خلاف مقدمہ کی سماعت مکمل ہو چکی ہے۔ سابق فنانس ڈائریکٹر ایرا نوید اکرام کو شہباز شریف کے داماد علی عمران کا دست راست تصور کیا جاتا ہے۔ نوید اکرام گزشتہ سال نومبر میں برطانوی ادارے کی فراہم کردہ رقوم میں ڈیڑھ ملین پائونڈکی خورد برد میں قصور وار ثابت ہو چکا ہے۔ اس سارے معاملے میں برطانوی محکمہ برائے بین الاقوامی ترقی کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔پاکستان کی تاریخ میں گزشتہ دو حکومتوں کا زمانہ بدترین انتظامی و معاشی پالیسیوں کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ 2005ء میں زلزلے سے کے پی کے اور آزاد کشمیر کے علاقے بڑے پیمانے پر تباہ ہوئے۔ تعلیمی ادارے‘ ہسپتال سرکاری و غیر سرکاری دفاتر‘ کھیلوں کے میدان‘ مارکیٹس اور گھر اس تباہی کا نشانہ تھے۔ یہ بات درست ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے عالمی برادری کی طرف سے ملنے والی نقد امداد کو ضرورت مندوں کی بحالی کے لئے بروئے کار لانے کا کام ایرا کے ذمہ لگایا۔ ایرا کو دنیا کے مختلف ممالک اور تنظیموں کی جانب سے فنڈز ملے جن سے تباہ شدہ عمارتوں اور گھروں کی تعمیر کا کام شروع ہوا‘ سڑکوں اور پلوں کو تعمیر کیا گیا۔ کئی لوگوں کو راشن مہیا کیا گیا۔ علاج معالجے کی سہولیات فراہم کی گئیں۔ برطانیہ کا ڈیپارٹمنٹ فار انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ ایرا کو زلزلہ متاثرین کی بحالی کے لئے فنڈ ز مرحلہ وار ادا کر رہا تھا۔ ایرا کے ایسے بہت سے منصوبے 2008ء سے 2018ء کے درمیان مکمل ہوئے جن پر زلزلہ کے بعد کام شروع ہوا۔ برطانوی محکمہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ اسے بعض معاملات میں بدعنوانی کی شکایت ملی مگر وہ اس بات کو اپنی آڈٹ رپورٹس کے ساتھ منسلک کرکے ان منصوبوں کی تکمیل کی بات کر رہا ہے جن کے لئے اس نے رقم فراہم کی۔ برطانیہ میں اثاثوں کی جانچ پڑتال کرنے والے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ 2003ء میں شہباز شریف خاندان کے اثاثوں کی مالیت ڈیڑھ لاکھ پائونڈ تھی جو 2018ء میں 200ملین پائونڈ تک پہنچ گئی۔ رپورٹ نے شہباز شریف خاندان کے ظاہر کردہ ذرائع آمدن کو دیکھتے ہوئے اثاثوں میں حیرت انگیز اضافہ پر سوال اٹھایا ہے۔ ’’دی میل‘‘ کی رپورٹ میں لاہور میں جیل کاٹنے والے آفتاب سمیت بہت سے کرداروں کا نام ہے جنہوں نے منی لانڈرنگ کی زنجیر بنائی۔ ہر چیز کو خاصی تفصیل کے ساتھ کھنگالا گیا ہے۔ مزید یہ کہ رپورٹر ڈیوڈ روز نے شہباز شریف کی جانب سے اپنے خلاف عدالت سے رجوع کے بیان کا خیر مقدم کیا ہے۔ جناب شہباز شریف اگر اس رپورٹ کو من گھڑت اور جھوٹ سمجھتے ہیں تو انہیں ضرور عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔ اتنے سنگین الزامات کا جواب نہ دیا گیا تو صرف شہباز شریف خاندان کی بدنامی نہیں ہو گی‘ پاکستان کی بطور ریاست ساکھ بھی متاثر ہو گی جو سابق وزیر اعظم نواز شریف پر کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کے باعث پہلے ہی دائو پر لگی ہے۔ معاملے کو تحقیقاتی کمشن یا صرف نیب اور ایف آئی اے پر چھوڑنے کی بجائے مسلم لیگ ن آگے بڑھے اور برطانیہ میں عدالتی چارہ جوئی کرے ورنہ وال سٹریٹ جرنل کے خلاف مقدمہ نہ کرنے کے بعد ایک بار پھر اس کی قیادت کی مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں