42

برسات کے موسم میں ہیضہ سے کیسے بچیں؟ ڈاکٹر کاشف الرحمان کی انتہائی مفید ٹپس

لاہور ( ) منہاج یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف بائیو کیمسٹری اینڈ میڈیکل لیب ٹیکنالوجی کے ہیڈ ڈاکٹر کاشف الرحمان نے کہاہے کہ اس وقت برسات کا آغاز ہوچکاہے جس کی وجہ سے ہیضہ ، پیچش اور پیٹ کے متعدی امراض پھیلنے کا خدشہ بہت بڑھ جاتاہے ، اس لئے ان موذی امراض سے بچاﺅکیلئے حفاظتی تدابیر اختیار کرنا بہت ضروری ہے ۔ ”روزنامہ پاکستان “سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر کاشف الرحمان نے کہاہے کہ متعدی امراض میں ہیضہ ایک سب سے خطرناک بیماری ہے جس کے دوران ذرا سے غفلت مریض کیلئے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ برسات کے گرم مرطوب موسم میں جراثیم کی افزائش بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے اورعام رفتار سے کئی گنا زیادہ سرعت کے ساتھ پھیلتے پھولتے ہیں جس کی وجہ سے ہیضہ ، پیچش سمیت دیگر پیٹ کے امراض میں خوفناک حد تک اضافہ ہوجاتاہے ۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہیضہ کے مرض میں مبتلا شخص کوفوری ہسپتال کی ایمر جنسی میں پہنچانے کا انتظام کرنا چاہئے اور ا س دوران اس کواو آر ایس ملا پانی کثرت سے پلاتے رہنا چاہئے تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہوسکے کیونکہ جسم میں پانی کا ایک خاص حد سے کم ہونا مریض کیلئے بہت خطرناک ثابت ہوسکتاہے اور بعض حالتوں میں مریض کی جان بھی جاسکتی ہے ۔

ڈاکٹر کاشف الرحمان کا کہناتھاکہ ہیضہ جیسے موذی مرض سے بچنے کیلئے گھر میں برتنوں کوڈھانپ کر رکھنا چاہئے اور استعمال کرنے سے پہلے ان کواچھی طرح دھوناچاہئے ، بچوں کے ہاتھ بھی دن میں چھ سے سات باردھوئیں کیونکہ بجے اکثر ادھر ادھر ہاتھ مارتے رہتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ عام حالات میں ہوٹلنگ اورخاص کر برسات میں باہر کے کھانے استعمال کرنے سے مکمل پرہیز کرنا چاہئے اور اگر مجبوراًباہر سے کھانا بھی پڑے تو ڈسپوزایبل برتنوں کا استعمال کرنا چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ برسات کے موسم میں حبس کی وجہ سے پسینہ بہت زیادہ آتاہے ، اس سے جسم میں پانی کی کمی واقع ہوسکتی ہے ، اس لئے تمام افراد کو برسات کے دنوں میں او آرایس ملے پانی کا استعمال کرتے رہنا چاہئے تاکہ جسم میں پانی کی کمی کاعمل واقعہ نہ ہوسکے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں