44

جج ارشد ملک مبینہ ویڈیو سکینڈل پر سماعت23 جولائی تک ملتوی،آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل ذاتی حیثیت میں طلب

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سکینڈل سے متعلق درخواستوں پر آئندہ سماعت پر اٹارنی جنرل کو طلب کرلیا،اٹارنی جنرل کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ معاملے پر اٹارنی جنرل کو بھی سننے چاہتے ہیں،تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سکینڈل سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں بنچ نے سماعت کی ،جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس عمر عطابندیال تین رکنی بنچ کا حصہ ہیں ،درخواستیں اشتیاق احمد مرزا سہیل اختراور ایڈووکیٹ طارق اسد نے دائر کی ہے ،درخواستوں میں وفاقی حکومت نوازشریف شہباز شریف ،مریم نواز،شاہد خاقان عباسی ،راجہ ظفر الحق اوردیگر کو فریق بنایاگیا ہے ،درخواستوں میں جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو کی انکوائری کرانے کی استدعاکی گئی ہے،دوران سماعت وکیل طارق اسد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کے ایک جج پر کمیشن بنایاجائے ،حکومت کو بھی کمیشن بنانے کا اختیار ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ احتساب عدالت کے جج لاہور ہائیکورٹ کے ماتحت تھے ،وفاقی حکومت نے جج کو ڈی پوٹیشن پر تقرری کی،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ویڈیو کی ساخت کا معاملہ ہے فورم کون ساہوگا،دوسری بات پبلک باتیں ہیں،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ پرائیویٹ ویڈیو کیسے بنائی کیسے پبلک ہوئی اس کو بھی دیکھنا ہے ،جب سب کچھ سپریم کورٹ کرتی ہے پھر اعتراض ہوتا ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ جب ہم ہاتھ کھینچتے ہیں تو کہاجاتا ہے سپریم کور ٹ کرے ،ہم نے فیصلہ کرنا ہے کہاں ہاتھ ڈالنا ہے کہاں نہیں،جج کے مس کنڈکٹ کوبھی جاننا ہے ،چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم نے دیکھنا ہے کہاں مداخلت کر نی ہے ،عنقریب ہم کچھ چیزیں طے کریں گے ،عدالت نے درخواستوں پر سماعت23 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیااور تجاویز طلب کرلی،عدالت نے کہا کہ اٹارنی جنرل ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں