37

سوشل میڈیا کی محویت

کبھی ہم انسانوں کی، دوستوں اور رشتوں کی سماجی زندگیاں ایسے ہوتی تھیں کہ دن بھر اپنے کام وغیرہ نمٹا کر شام کو اکٹھے کھانا اور پھر بیٹھ کر خوش گپیاں لگانا، کبھی محلے کے کچھ لوگ بھی آکر بیٹھ جاتے، کبھی دوستوں کی محفلیں اور مختلف کھیلیں اور کہانیاں قصے، اور اب کیا ہے۔ دوستوں کو ملنا تو دور کی بات گھر میں بیٹھے بہن بھائیوں کی ایک دوسرے کی خبر نہ ماں کا بچوں کی طرف دھیان، ہر کوئی اپنے اپنے موبائل پر دھیان رکھے ہوئے ہے۔ بعض اوقات ایسے ہوتا ہے کہ کوئی چھوٹا بچہ ماں کی ٹانگوں سے لپٹ کر رو رہا ہوتا ہے اور ماں اپنے موبائل کو دیکھ کر ہنس یا رو رہی ہوتی ہے۔ ایک بار بیوی نے اپنے خاوند کو کھانا دیا اور جلدی سے اپنے موبائل کو لیکر بیٹھ گئی اور خاوند بھی موبائل پر دیکھتے دیکھتے منہ میں نوالہ لے کر کہتا ہے کہ بیگم تم اچھی بھلی ہانڈیاں بنا لیتی تھی اور اب ہر وقت موبائل پر دھیان کی وجہ سے کتنی بد مزہ ہانڈی بناتی ہو جس میں نہ نمک مرچ نہ کوئی مسالے کا ذائقہ، بیگم کہتی ہے آپ بھی تو موبائل پر مصروف ہو اور روٹی کا نوالہ سالن میں لگانے کی بجائے پانی میں ڈبو کر منہ میں ڈال رہے ہو نا!!

کئی گھروں میں ایسے ہوتا ہے کہ خاوند کام پر ہوتا ہے اور بیگم گھر میں سارا دن گھر کے کام کرتی اور بچوں کو سنبھالتی ہے اور خاوند کے گھر آنے سے پہلے پہلے بڑے شوق سے کھانا بنا کر انتظار کرتی ہے کہ اکٹھے بیٹھ کر کھائیں گے اور آپس میں باتیں کریں گے دن بھر کی اپنی روداد سناوں گی اور بچوں کے پیارے پیارے کارنامے بتاوں گی۔ اور خاوند سے اس کے کام کے حوالے سے کچھ سنوں گی، لیکن خاوند گھر آتے ہی موبائل ہاتھ میں پکڑ لیتا ہے۔ کسی کو فون کرتا ہے، وٹس اپ، فیس بک، ٹویٹر اور انسٹاگرام کی سرگرمیوں کو دیکھتا ہے کیوں کہ کام کے دوران اس کو زیادہ وقت نہیں ملا ہوتا۔ نہ اس کا کھانے کی طرف کچھ خاص دھیان ہوتا ہے نہ بچوں کی کوئی پرواہ، گھر کی صفائی کو غور سے دیکھتا ہے۔ نہ بچوں سے باتیں کرتا ہے۔ جو اسے اپنی دن بھر کی کارکردگی دکھانے کے متمنی ہوتے ہیں۔ اس صورتحال سے بیگم کا موڈ خراب ہو جاتا ہے اور وہ چپ چپ ہو جاتی ہے۔ پھر خاوند غصے سے پوچھتا ہے کہ ” تم کیوں منہ بنائے پھر رہی ہو؟ جب یہ سلسلہ کئی ہفتوں تک اسی طرح چلتا ہے تو پھر بیوی بھی سوشل میڈیا میں اپنے لئے کچھ مصروفیات ڈھونڈ لیتی ہے۔ اس طرح ان کو ایک دوسرے کی خبر بہت کم رہتی ہے۔ اگر ایک دوسرے کی کسی بات کا پتا چلتا ہے تو وہ بھی سوشل میڈیا کی وساطت سے۔

اب ذرا سوچتے ہیں کہ سوشل میڈیا میں ہوتا کیا ہے۔جو ہمیں اس حد تک اپنی طرف کھینچ لیتا ہے کہ ہمیں اپنوں ہی کا کوئی ہوش نہیں رہتا!!

عصر حاضر میں پوری دنیا سوشل میڈیا کا اندھا دھند استعمال کرتی ہے۔ بلکہ یوں کہنا غلط نہ ہوگا کہ اب سوشل میڈیا ہماری زندگی کا ایک جزو لازم ہے، لیکن فرق یہ ہے کہ جن ممالک نے اس سوشل میڈیا کو دنیا میں متعارف کروایا ہے۔ وہ اس سے لا محدود فائدے اٹھا رہے ہیں۔ اول تو وہ ہماری طرح اتنا زیادہ وقت نیٹ کا استعمال نہیں کرتے،کیونکہ ان کے مشاغل میں صحت مند سرگرمیوں کا بہت عمل دخل ہوتا ہے۔ فارغ وقت میں جنگلوں میں چلے جاتے ہیں۔ پیدل چلتے ہیں۔، سائیکلنگ کرتے ہیں۔ یا مختلف کھیلوں میں حصہ لیتے ہیں۔ اور جو وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں وہ بھی سب معلوماتی چیزوں میں دلچسپی ہوتی ہے۔ اخبارات پڑھتے ہیں۔ اپنی تعلیم کے متعلق معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

دنیا میں ہونے والے نت نئے سائنسی تجربات کو دیکھتے ہیں۔ اپنے شہروں میں مختلف سرگرمیوں کی معلومات حاصل کرتے ہیں اور اپنے دوستوں کے ساتھ اپنی سرگرمیاں اشتراک کرتے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔ شاید ان کو اس انفارمیشن ٹیکنالوجی کی قدر ہے، کیونکہ یہ انہوں نے بہت محنت سے حاصل کی ہے۔ اور ایک ہم ہیں جو اس ٹیکنالوجی کو مال مفت دل بے رحم کے مصداق اس طرح استعمال کرتے ہیں جس کا فائدہ نہایت قلیل اور نقصان ناقابل تلافی ہوتا ہے۔ ہمارے نوجوانوں میں غیر نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہو گئی ہے۔ تعلیم میں دل لگتا ہے نہ گھر میں ہاتھ بٹانے کو جی چاہتا ہے۔ اب دیکھتے ہیں کہ ہم لوگ سوشل میڈیا پر کرتے کیا ہیں۔ ہمارے بڑے، یعنی سیاستدان سب سے زیادہ ایک دوسرے کے خلاف ٹویٹ کرتے ہیں۔

اور ان سیاستدانوں کے کارکنان اور ووٹر اپنے اپنے لیڈران کے حق میں اور دوسروں کے خلاف مواد کا اشتراک کرتے ہیں۔

اس کا فوری حل یہ ہے کہ ہم اپنے گھروں میں سب سے بات کریں کہ ہفتے میں ایک دن موبائل فری دن ہوگا، تاکہ ہم ایک دوسرے سے سوشل میڈیا کی بجائے آنکھیں ملا کر بات کر سکیں۔ اور اپنی صحت کا خیال رکھ سکیں۔ جن لوگوں کے پاس سہولت یا توفیق ہو وہ اس دن کو کسی جنگل یا پارک میں جاکر انجوائے کریں۔ یا کہیں قریب ہی کوئی پیدل چلنے یا کسی کھیل میں حصہ لینے کا اہتمام کریں۔ ہفتے کے باقی دنوں میں موبائل استعمال کرنے یا سوشل میڈیا پر بیٹھنے کے اوقات مقرر کریں اور مقررہ اوقات سے ایک منٹ بھی زیادہ یہ کام نہ کریں۔ ورنہ یاد رکھیں رشتوں سے دوری تو ہوگی بلکہ آپ کی نظرکمزور ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری کئی بیماریوں کا بھی شکار ہو جائیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں