36

بلاول زرداری، عمران خان سے پہلے امریکہ کاد ورہ کررہے ہیں!

کئی روز پہلے پاکستانی میڈیا پر یہ خبر بریک ہوئی تھی کہ وزیراعظم عمران خان امریکہ کے چار روزہ دورے پر جا رہے ہیں۔ اس دورے کی تاریخوں کا بھی باقاعدہ اعلان کر دیا گیا تھا کہ یہ وزٹ 21جولائی سے 24جولائی تک ہو گی۔ ہم نے ان دنوں ”تُرنت“ ایک کالم بھی لکھ مارا تھا جس میں حیرت کا اظہار کیا تھا کہ پاکستان کے بارے میں صدر ٹرمپ کا رویہ نہ صرف زبانی کلامی سرد مہری کا ہے بلکہ انہوں نے تو کئی ماہ پہلے عملاً بھی اس کا ثبوت فراہم کر دیا تھا۔ انہوں نے پاکستان کی ملٹری ٹُو ملٹری امداد بھی روک دی اور پاکستانیوں کے لئے ویزے کی پابندیوں کا مژدہ بھی سنایا۔ پھر یہ اچانک کیا ہوا کہ پاکستانی وزیراعظم کو چار دنوں کے دورے کی دعوت دے ڈالی۔ ہم نے ایک دوست سے بات کی تو انہوں نے کہا کہ دو دن تو آنے جانے میں لگ جائیں گے، ایک دن ٹرمپ سے ملاقات ہوگی اور چوتھا دن امریکہ میں پاکستانی برادری سے ہیلو ہیلو میں گزر جائے گا یا مختلف اداروں (مثلاً پینٹاگون، CIAاور وزارتِ خارجہ) کے سرکاری وفود سے ملاقاتیں ہو جائیں گی۔

پھر پچھلے دنوں یہ خبر آئی کہ یہ دورہ صرف دو دن کا ہو گا۔ 22جولائی کو ٹرمپ سے ملاقات ہو گی جس کا دورانیہ 40،45منٹ ہو گا۔ یہ دورانیہ ایک سٹینڈرڈ SOP ہے۔ پاکستان۔ امریکہ تعلقات کا ایجنڈا بھی ذہن میں رکھیئے…… افغانستان سے امریکی ٹروپس کی مکمل واپسی، طالبان سے مذاکرات اور دہشت گردی کے موضوع پر سٹرٹیجک بات چیت کے لئے پون گھنٹے کی یہ ملاقات کچھ زیادہ ”طویل“ نہیں تومختصر بھی نہیں۔

ہمارے سرکاری میڈیا پر تو اس وزٹ کے سلسلے کے متعلقہ پہلوؤں پر دوچار ٹاک شوز منعقد کئے گئے تاہم نجی چینلوں پر شاذ ہی اس کا نوٹس لیا گیا۔ ہاں ایک سیاسی پراگراس ضرور رپورٹ کی گئی۔ کہا گیا کہ وزیراعظم عمران خان کے دورے سے پہلے بلاول زرداری بھی امریکہ جا رہے ہیں ……

بندہ پوچھے وزیراعظم کے دورے کے تناظر میں بلاول کو کس نے دعوت دی ہے کہ وہ امریکہ تشریف لائیں اور عمران خان کے مجوزہ دورے کا کوئی کاؤنٹر پیش کریں۔ جن وابستہ مفادات نے بلاول کے دورے کو عمران خان کے دورے کے سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھا ہے ان کے سٹرٹیجک ویژن پر عش عش کرنے کو جی چاہتا ہے۔ جس طرح وزیراعظم کے دورے کا ایجنڈا تیار کیا جا رہا ہے اور جس طرح امریکی اداروں میں بھی اس وزٹ کی تیاریاں ہو رہی ہوں گی، کیا اسی طرح کی تیاریاں بلاول زرداری کے لئے پی پی پی کے کسی سیکرٹریٹ میں بھی ہو رہی ہیں؟……بلاول زرداری کو تو آج کل ”جوابِ آں غزل“ سے ہی فرضت نہیں ملتی۔ والد اور پھوپھوکا مستقبل ہمیشہ ان کو آتش زیرپا رکھتا ہے۔ انگریزی زبان سے واقفیت کا مطلب یہ نہیں کہ پی پی پی کی کوئی شیڈو کابینہ بھی ہے اور وہ اقتدار میں آنے کو پَر تول رہی ہے اور کوئی ہی دن جاتا ہے کہ بلاول، عمران کی کرسی سنبھال لیں گے……

وزیراعظم کی پشت پر تو ساری حکومتی مشینری صف باندھے کھڑی ہوتی ہے۔ ایک ایک نکتے پر متعلقہ اداروں کے بریف تیار ہوتے ہیں جو اس لیول کے دوروں کے لئے وزیراعظم کی رہنمائی کرتے ہیں۔علاوہ ازیں بلاول زرداری کی بین الاقوامی اور سٹرٹیجک امور کی است و بود سے آگہی بھی محلِ نظر ہے؟ …… نجانے جو لوگ بلاول کے دورۂ امریکہ کو عمران خان کے دورۂ امریکہ کے پس منظر میں دیکھ رہے ہیں ان کی تجزیاتی مساوات کا کیف و کم کیا ہے؟ حکومتی سطح کے دورے اور ہوتے ہیں جن کو نجی سطح کے دوروں کے مقابل رکھنا پرلے درجے کی ناسمجھی بلکہ بے وقوفی ہے۔ پاکستانی میڈیا کو اس قسم کی خبروں کو آن ائر کرنے سے پہلے سوچنا چاہیے کہ اس طرح کی بے تُکی خبروں کو کوئی درِ خور توجہ بھی جانے گا یا نہیں …… ایک مثال سے اپنی بات واضح کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔

ابھی کل کی خبر ہے کہ امریکی ملٹری کے آئندہ چیف نے یہ بیان دیا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے ساتھ دو طرفہ ملٹری۔ ٹُو۔ ملٹری روابط قائم رکھنے کی اشد ضرورت ہے۔ یہ باہمی روابط دونوں ممالک کے مشترک مفادات کے آئنہ دار ہوں گے۔ جنرل مارک ملّی (Mark Milley) کو صدر ٹرمپ نے اپنا اگلا جوائنٹ چیفس آف سٹاف نامزد کیا ہے۔ جنرل ملّی اس وقت آرمی کے چیف آف سٹاف ہیں۔ ملٹری کے نہیں (ملٹری کے مفہوم میں آرمی، نیوی، ائر فورس اور میرین یعنی چاروں سروسیں شامل ہوتی ہیں اور ان کے کمانڈنگ جنرل کو جوائنٹ چیفس آف سٹاف بولا اور لکھا جاتا ہے۔ چیف واحد ہے اور چیفس اس کی جمع ہے۔ آرمی چیف، نیوی چیف، ائر چیف اور میرین چیف بھی ہوتے ہیں لیکن مسلح افواج کے ان چاروں شعبوں کو ملا کر ان کے چیف کو جوائنٹ چیفس بولا اور لکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہی اصول فالو کیا جاتا ہے۔ پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے اوپر ایک سینئر چیف تعینات کیا جاتا ہے جس کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا نام دیا جاتا ہے)……

جنرل ملی کی توثیق ابھی سینیٹ کی طرف سے ہونا باقی ہے لیکن یہ جنرل چونکہ قبل ازیں افغانستان، عراق، صومالیہ اور کولمبیا وغیرہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں اس لئے ان کی توثیق کی راہ میں ری پبلکن یا ڈیمو کریٹک اراکین کی طرف سے کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔ اس امریکی جنرل نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ افغانستان سے امریکی سپاہ کا مکمل انخلاء امریکہ کی سٹرٹیجک غلطی ہو گی۔ جنرل ملّی نے حال ہی میں واشنگٹن میں سینیٹ کی مسلح افواج کی کمیٹی کے سامنے ایک بیان دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر مجھے چیئرمین مقرر کر دیا گیا تو میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی روابط کے قیام پر زور دوں گا خواہ اس کے لئے ہمیں پاکستان پر کوئی دباؤ بھی ڈالنا پڑا کہ ہماری درخواست پر دہشت گردوں کے خلاف ایکشن لیں تو میں پھر بھی اس حق میں ہوں گا کہ پاکستان کے ساتھ باہمی روابط برقرار رکھے جائیں۔ اس بیان میں انہوں نے تین وجوہات کی طرف توجہ مبذول کروائی…… ایک تو پاکستان، افغانستان کے ساتھ امن اور صلح جوئی کا خواہاں ہے…… دوسرے پاکستان نے دوہا (قطر) میں طالبان۔ امریکہ مذاکرات میں ایک مثبت رول ادا کیا ہے اور طالبان کو ان مذاکرات میں شریک ہونے پر راغب کیا ہے …… اور تیسرے دوہا میں انٹرا افغان ڈائیلاگ میں بھی معاونت کی ہے۔ یعنی افغانوں کے مختلف دھڑوں کو آپس میں یک جا کرنے میں مدد دی ہے۔

امریکی سینیٹ نے جنرل ملّی کو ایک تحریری سوالنامہ بھی بھیجا تھا جس میں ان سے پوچھا گیا تھا کہ وہ افغانستان، پاکستان اور عراق کے موجودہ حساس معاملات و موضوعات پر کیا رائے رکھتے ہیں۔ ان سوالوں کا تحریری جواب دیتے ہوئے جنرل نے لکھا : ”پاکستان کے ساتھ دفاعی تعلقات کا قیام ہماری ضرورت ہے۔ پاکستان اس خطے میں ایک اہم ملک ہے اور امریکہ کا ایک کلیدی اور سٹرٹیجک پارٹنر بھی ہے؟ اسلام آباد کا رول اس خطے میں قیامِ امن کی راہ میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے اگر سینیٹ نے میری تقرری کی توثیق کر دی تو میں پاکستان کے ساتھ ملٹری۔ ٹو۔ ملٹری تعاون اور انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام کے موضوعات پر باہمی تعلقات کے مزید فروغ پر زور دوں گا“۔…… صدر ٹرمپ نے ان دونوں معاملات میں نہ صرف پاکستان کی عسکری امداد معطل کر دی تھی بلکہ پاکستانی افسروں کو اپنے پروفیشنل ملٹری اداروں میں ٹریننگ دینے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ اس کے بعدپاکستان نے اپنے آفیسرز کو روس کی ملٹری درسگاہوں میں بھجوانے کا پروگرام شروع تو کر دیا ہے لیکن روسی زبان کی اجنبیت اور روسی عسکری ساز وسامان کی کمی اتنی واشگاف ہے کہ امریکہ کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان کا زیادہ تر اسلحہ مغرب نژاد ہے اور روسی اسلحہ پر ٹریننگ لینا، اس کو استعمال کرنا اور اس کی خوبیوں اور خامیوں پر نقد و نظر کرنا، پاکستان کی عسکری درسگاہوں میں ابھی تک زیادہ بار نہیں پا سکا۔

عمران خان کی جو ملاقات صدر ٹرمپ سے ہو گی اس میں ابھی پورا ایک ہفتہ باقی ہے۔ اس ملاقات میں اس امداد کی بحالی کا ذکر ضرور زیرِ بحث آئے گا۔ وزیراعظم اب تک مختلف ملکوں میں بین الاقوامی عسکری اور اقتصادی فورموں میں شریک ہو کر حکمرانی کا ایک ابتدائی اور اساسی تجربہ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کی نظر ان دونوں موضوعات پر نون لیگ اور پیپلزپارٹی کے قائدین کے مقابلے میں زیادہ دوررس معلوم ہوتی ہے۔ نون لیگ نے تو جنرل عبدالقیوم اور جنرل قادر بلوچ کو اپنی پارٹی میں شامل کرکے عسکری ترازو کا توازن ایک حد تک برابر کر رکھا تھا لیکن پیپلزپارٹی کی صفوں میں کوئی ایسا جرنیل مجھے نظر نہیں آتا جو اس کمی کو پورا کر سکے۔ اور جہاں تک پی ٹی آئی کا تعلق ہے تو تینوں پاکستانی افواج اس کی پشت پر کھڑی ہیں۔ امید ہے کہ وزیراعظم جب امریکی سول / ملٹری آفیسرز سے بات چیت کریں گے تو ان کو اپنی ملٹری کی بالواسطہ اور براہِ راست سپورٹ حاصل ہوگی۔ امریکی آفیسرز کو بھی اس بات کی خبر ہے کہ عمران خان کی شکل میں پاکستان کو ایک ایسا وزیراعظم ملا ہے جو نہ صرف خود سرٹیجک ملٹری معاملات کی سوجھ بوجھ رکھتا ہے بلکہ اس کو مسلح افواج کی بھی مکمل تائید و حمائت حاصل ہے۔اس لئے میرا خیال ہے کہ اس امریکی دورے میں آرمی کی ٹاپ براس بھی عمران خان کے ہمراہ ہو گی۔

اس تناظر میں اگر پیپلزپارٹی یہ کہے کہ بلاول زرداری، عمران خان سے پہلے امریکہ کا دورہ کرکے وزیراعظم پر کوئی پوائنٹ سکورنگ کر لیں گے تو یہ ایک مضحکہ خیز بیان ہو گا۔ بلاول خواہ عمران کے دورے سے پہلے امریکہ جائیں یا بعد میں جائیں، ایک بار جائیں یا بار بار جائیں اکیلے جائیں یا کسی پارٹی وفد کو ساتھ لے کر جائیں اس سے کیا فرق پڑے گا؟……زیرو +زیرو+زیرو =زیرو……

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں