32

آئی جی اور سی سی پی او، پولیس سسٹم تبدیل کرنے میں کامیاب؟

پاکستان میں بیوروکریسی کو طاقت اور اختیارات کا محور سمجھا جا تا ہے۔ یہ ایسی سول سروس ہے جس کے اعلی افسران ہی درحقیقت پالیسی میکر بھی ہوتے ہیں اور ملک کے نظام کو چلانے کے لئے اہم کردار بھی ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ طاقت، اختیار اور عہدے کے ساتھ ساتھ معاشرے کی سپیریئر کلاس سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ان میں سے زیادہ تر کی گردن میں سریا آ جاتا ہے اور ان کے نزدیک عام شہری کی حیثیت کیڑے مکوڑے سے زیادہ نہیں ہوتی۔
ہمارے سیاست دان جب الیکشن کے دوران یہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ نظام کو بدل دیں گے تو درحقیقت وہ بیوروکریسی کا قبلہ بدلنے کی ہی بات کرتے ہیں لیکن ان کو بھی علم ہوتا ہے کہ یہ اتنا آسان کام نہیں ہے۔

حکمران کسی کو بہتر نہ سمجھیں تو اس کا تبادلہ کر دیتے ہیں یا پھر اسے معطل کر دیتے ہیں لیکن سچ یہ ہے کہ معطلی کے باوجود افسر شاہی کو گھر بیٹھے تنخواہ ملتی رہتی ہے۔ بہت کم کیسز ایسے ہوں گے جس میں افسر شاہی کے کسی رکن کو برطرف کیا گیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عوام میں بھی یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ بیوروکریسی خود کو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتی۔ دوسری جانب ایسے افسران بھی اسی بیوروکریسی میں موجود ہیں جن کی وجہ سے یہ نظام چل رہا ہے اور عوام کو کسی حد تک ریلیف مل رہا ہے۔

ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہیں لیکن اس کے باوجود اپنی کوشش کرتے رہتے ہیں اوراس حلف کی پاسداری کرتے ہیں جو سروس میں آنے کے بعد انہوں نے اٹھایا ہوتا ہے

پنجاب میں پولیس کے نظام کے حوالے سے جائزہ لیا جائے تو یہ بات حیرت میں ڈال دیتی ہے کہ کس طرح ایک آفیسر نے پورا پولیس سسٹم ہی تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ موجودہ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان نے انتہائی کم عرصہ میں پنجاب میں جبکہ سی سی پی او لاہور بی اے ناصر نے لا ہور میں عوامی خدمت کے ایسے دور رس اثرات کے حامل منصوبوں کی بنیاد رکھ دی ہے کہ دل کرتا ہے سرکار کو کہا جائے کہ جس طرح دیگر کئی اعلی افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد پبلک سروس کمیشن کا ممبر یا کسی اورمحکمے کا چیئرمین لگایا جاتا ہے اسی طرح موجودہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کوان کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی پنجاب پولیس کے سربراہ ہی لگا دیا جائے تاکہ ایک بار پانچ چھ سال کی محنت سے یہ محکمہ مکمل طور پر عوامی محکمہ بن جائے۔

موجودہ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کا سب سے بڑا کارنامہ تو خدمت مراکز کا قیام ہے جو کہ پنجاب میں تحصیل کی سطح تک پھیل چکا ہے۔ خدمت مرکز میں پولیس سے متعلقہ چودہ اقسام کی سروسز مہیا کی جاتی ہیں۔ ہم نے دو تین خدمت مراکز کا دورہ کیا اور وہاں جا کر ایسا لگا جیسے کسی ملٹی نیشنل کمپنی کے سروس ڈیلوری سنٹر میں آ گئے ہیں۔ ان خدمت مراکز کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اب پنجاب بھر میں کسی شہری کو محض ان سروسز کی خاطر اپنی ملازمت یا کاروبار والے شہر سے اپنے آبائی علاقے میں نہیں جانا پڑتا بلکہ وہ پنجاب میں جہاں ہو وہیں اس کا کام ہو جاتا ہے۔

یہ ڈیٹا بیس کے حوالے سے اتنا بڑا کام ہے کہ پاکستان میں نادرا کے بعد خدمت مراکز کا نظام ہی اس طرز پر کام کر رہا ہے۔ اب تک پچیس لاکھ سے زیادہ لوگ خدمت مراکز سے مستفیذ ہو چکے ہیں۔ خدمت مراکز کے علاوہ آئی جی پنجاب نے تھانہ کلچر بدلنے کے لئے پنجاب کے تمام پولیس اسٹیشنز کو کیمروں سے مانیٹر کرنے کا بندوبست بھی کر دیا ہے۔

اس وقت پنجاب بھر کے تھانوں کے حوالات، فرنٹ ڈیسک اور ایس ایچ اوز کے کمروں میں کیمرے لگے ہوئے ہیں جنہیں باقاعدگی سے مانیٹر کیا جاتا ہے۔ اس قدر کڑی نگرانی کے بعد ہمیں یقین ہے کہ تھانوں کے اندر کا ماحول بھی عوام دوست ہو چکا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ بہتر سے بہتر ہوتا جائے گا۔

یہ بات تو طے ہے کہ کسی بھی فورس سے اس وقت تک نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے جب تک اس فورس کا مورال بلند نہ ہو اور ان میں

قربانیاں دینے کا جذبہ نہ پایا جائے۔ یہ جذبہ اس وقت تک پیدا نہیں ہو سکتا جب تک فورس کو یہ معلوم نہ ہو کہ ان کا کمانڈر نہ صرف ان کے مسائل سے واقف ہے بلکہ انہیں حل بھی کر رہا ہے۔

اس حوالے سے بھی اگر پنجاب پولیس کی تاریخ میں کسی کا نام یاد رکھا جائے گا تو وہ موجودہ آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان اور سی سی پی او لاہور بی اے ناصر ہی ہیں۔ جنہوں نے وزیر اعلی پنجاب سے یہ بات منظور کروا لی ہے کہ پنجاب پولیس کے منجمند الاؤنس کو ڈی فریز کر دیا جائے۔ یہ الاونس 2005 اور2008 پر فریز تھے جنہیں ڈی فریز کر کے تنخواہیں بڑھانے کا اعلان گزشتہ روز وزیر اعلی پنجاب نے تمام لوکل اور نیشنل میڈیا کے سامنے کیا ہے۔

اسی طرح آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لا ہور نے مشتر کہ کو شش کر کے اپنی فورس کے شہدا کے لواحقین کے لئے پنجاب حکومت کی ہاوسنگ پراجیکٹس میں پلاٹ اور گھروں کی منظوری بھی حاصل کر لی ہے اور یہ دونوں آفیسر وزیر اعلی پنجاب سے اپنی فورس کے لئے ہیلتھ کارڈ کی منظوری لینے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔اگر ہم آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کے دیگر کئی اقدامات کا ذکر نہ کریں تب بھی ایک مختصر جائزے میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ دونوں صاحبان نے عوام کی خدمت کے حوالے سے اہم اقدامات کر کے فوری پولیس سروسز ڈیلوری کو یقینی بنا دیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نہ صرف یہ کہ پولیس فورس کے معاشی مسائل حل کرواتے ہوئے انہیں لاحق خدشات کا سدباب کر دیا ہے بلکہ تھانوں کو کیمروں سے مانیٹر کر کے تھانہ کلچر کی تبدیلی کی جانب بھی قدم بڑھا دیا ہے۔

یہ وہ اقدامات ہیں جو اس سے قبل دیوانے کا خواب اور مجذوب کی بڑ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے تھے اور لوگ کہتے تھے کہ تھانہ کلچر تبدیل نہیں ہو سکتا۔ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او نے کمیونٹی پولیسنگ کے ساتھ ہی نوے سال پرانا فرسودہ نظام دفن کر دیا ہے اور ایک ایسی پولیسنگ کی بنیاد رکھ دی ہے جس کے بارے میں اس سے پہلے صرف سوچا ہی جا سکتا تھا۔

ان کے یہ اقدامات بتاتے ہیں کہ حکومت کا انہیں اس اہم سیٹوں پر تعینات کرنے کا فیصلہ کس قدر درست تھا۔ وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ اگر وہ واقعی حقیقی معنوں میں نیا پاکستان چاہتے ہیں تو پھر دیگر صوبوں میں بھی ایسے ہی نیک نام، محنتی اور ویڑنری افسران کو اہم عہدوں پر تعینات کریں تاکہ وہ خواب جو اس ملک کے عوام نے دیکھا تھا اس کی تعبیر ہو۔ ہمیں اب روایتی بیوروکریسی کی بجائے خوف خدا رکھنے والے عوام کے مددگار افسران ہی درکار ہیں جن کی زندگی کا مقصد پیسہ کمانے کی بجائے اپنی اگلی نسل کو بہتر سے بہتر ماحول فراہم کرنا ہو۔

ایسے افسران ہی عوام کی مشکلات میں کمی کا باعث بنتے ہیں اور اگر ہر محکمے میں ایسے ہی کوئی افسران تعینات ہو جائیں تو پھر ہی پاکستان کے عوام کی جان روایتی سست اور فرسودہ سسٹم سے جان چھوٹ سکتی ہے۔ اس وقت جو اقدامات ہو رہے ہیں ان میں موجودہ آئی جی پنجاب اور سی سی پی او کو رول ماڈل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے کہ ان افسران نے کس طرح انتہائی کم عرصہ میں اپنے محکمے کا قبلہ درست کر دیا ہے اور روایتی پولیس کو عوام کی مددگار فورس کے طور پر متعارف کروایا ہے۔

ان کی وجہ سے ہی ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ پنجاب پولیس بری نہیں ہے بلکہ اس پولیس کو اس کی صلاحیتوں کے مطابق استعمال ہی نہیں کیا گیا تھا۔ اب پولیس کو موقع ملا ہے اور ویڑنری کمانڈر ان کو لیڈ کر رہے ہیں تو یہی پولیس بہتر نتائج دے رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں