30

لاہور میں حریت کے زیر اہتمام…… گول میز کانفرنس

تحریک آزادی کشمیر کے خلاف سازشوں کو ناکام بنانے کے لئے امن آزادی اور انسان دوستوں کی ذمہ داریاں وسیع ہیں۔یہ اللہ کا کرم ہے کہ مشترکہ حریت لیڈر شپ کے زیر سایہ کشمیری من حیث القوم ناجائز قبضے کے خلاف پُرامن جدوجہد اور دیگر محاذوں پر ڈٹے ہوئے ہیں اور جدوجہد میں ہر محاذ مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔مربوط حکمت عملی کے تحت ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے برعکس جابر و ظالم دشمن کے خلاف نئی راہیں تلاش کر کے حکمت و دانش سے اقوام عالم میں اپنے اصولی موقف کی بھرپور انداز میں ترجمانی کی ضرورت ہے،تاکہ دشمن کو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دُنیا میں تن تنہا کیا جائے، کیونکہ زیادہ اہمیت اس با ت کی ہے کہ منزل مقصود کو کیسے حاصل کیا جائے۔عالم میں مسلمانوں کے لئے ہر دن قہر ثابت ہو رہا ہے۔ان حالات میں کشمیر سے مخلص حضرات ذی ہوش زعماء اور کشمیریوں کی آرزوؤں اور درد کو سمجھنے والے کشمیر کے حوالے سے ہر پہلو کو سامنے رکھ کر مربوط پروگرام ترتیب دے رہے ہیں، آر پار اور بین الاقوامی سطح پر 13 جولائی یوم شہداء منایا گیا۔ دُنیا میں آزادی و امن پسند یوم شہداء کشمیر منا رہے ہیں، خصوصاً کشمیری امنگوں کی ترجمان حریت کانفرنس اور دیگر آزادی پسند جماعتوں کے زیر سایہ مقبوضہ کشمیر، آزاد کشمیر، پاکستان اور دُنیا کے ہر کونے میں کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ خونی لکیر کے آر پار،اور پاک وطن میں 13جولائی کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اِس حوالے سے لاہور میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے زیر اہتمام گول میز کانفرنس……بیاد……شہداء 13جولائی 1931ء جس کا مرکزی خیال (جدوجہد آزادی کی سمت تعین کا دن عصری حالات اور ہماری ذمہ داریاں) تھا، تاکہ عصری حالات کے پیش نظر شاہراہئ حق میں نئی راہیں بھی تلاش کریں۔

اس کانفرنس میں کشمیر کمیٹی کے چیئرمین فخر امام کے علاوہ سیاسی، میڈیا، سماجی، انسانی، سوشل، عدالتی اکابرین اور ریٹائرڈ آرمی افسران نے شرکت کی۔اس کانفرنس کے اہم موضوع اور باصلاحیت محب الوطن، کشمیر سے مخلص قائدین کی سفارشات و تجاویز نے اس کانفرنس کی اہمیت کو مزید تقویت پہنچائی۔احقر نے اس کانفرنس میں سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔

تلاوت کلام پاک کے بعد حریت کنونیئر سید عبد اللہ گیلانی نے 13جولائی کے شہداء کی مناسبت سے اس دن کے سیاسی، نظریاتی پہلو کو اُجاگر کر نے کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے ایک مفصل رپورٹ پیش کی۔ کشمیر پرپارلیمانی کمیٹی کے چیرمین سید فخر امام نے پاکستان کے مسئلہ کشمیر اُجاگر کر نے کے حوالے سے کئی عملی اقدامات کا خاکہ پیش کیا اور کہا کہ پاکستان کشمیر کے لئے تین بار بھارتی جارحیت کا شکار بنا، لیکن کشمیر پر اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹا اور نہ ہٹے گا۔ جماعت اسلامی کے قائد لیاقت بلوچ نے لوکل اور عالمی سطح پر کشمیر کی شناخت کو مجروع کرنے کی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تجویز دی اور تحریک آزادی کشمیر کو اُجاگر کر نے کے لئے پاکستان کے دِل لاہور میں حریت کانفرنس سے ہر قسم کے تعاون کر نے کی سفارش کی، سینئر حریت لیڈر محمد فاروق رحمانی نے یوم شہداء کشمیر کے تاریخی اور نظریاتی پہلو کو اُجاگر کرنے کے ساتھ موجودہ عصری حالات کے مطابق سمت متعین کر نے کی سفارش کی،جن راستوں پر دُنیا میں بھارت کو گمراہ کر نے کے تمام راستے مسدود ہو جائیں۔ احقر نے بحیثیت ممبر و حریت کوآرڈی نیٹر پنجاب تجویز دی کہ انفرادی اور اجتماعی طور کشمیر کے سیاسی، سماجی، انسانی اور سفارتی، روحانی پہلو کو اجاگر کر نے کے لئے باصلاحیت افراد سے استفادہ لیا جائے۔ آزاد کشمیر اسمبلی کے سپیکرشاہ غلام قادر نے کشمیری مسلمانوں کے تناسب کو کم کر نے کی بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے پر زور دیا اور تجویز دی کہ بھارت کو کشمیر میں خون کی ہولی کھیلنے کی تمام راہیں مسدود کی جائیں،مجیب الرحمن شامی سینئر صحافی و تجزیہ کار نے تحریک آزادی اُجاگر کر نے کے لئے میڈیا اور طاقتور ممالک کے منظور نظر افراد اور این جی اوز سے استفادہ لینے کی تجویز دی۔شاہد اقبال مشہور اینکر پرسن و دانشور، نے تجویز دی کہ ملک کے اندر اور باہرکشمیر کاز کو اُجاگر کر نے کے لئے کشمیر پالیمانی کمیٹی کو مزید متحرک ہونے کی تجویز دی۔

بریگیڈیئر(ر) آصف محمود تجزیہ کار نے تحریک آزادی کشمیر کے دفاعی اور روحانی پہلو کو مدنظر رکھ کر بیرونی ممالک کے شہریت رکھنے والے امن و آزادی پسندوں سے اپیل کی کہ احتجاجی مظاہروں سے کشمیر کے ہر انسانی حقوق کی پامالیوں سے حکمرانوں کو باخبر رکھیں۔آزاد کشمیر پنجاب کے صدر سید نصیب اللہ گردیزی نے عالم میں کشمیر کاز کو اُجاگر کر نے کے لئے با صلاحیت اور تجربہ کار عالمی امور کے ماہرین کی ٹیم بنانے کی تجویز دی۔غلام محی الدین دیوان پی ٹی آئی لیڈر ممبرآزاد کشمیر اسمبلی نے موجودہ حکومت کی کشمیر پالیسی کا دفاع کیا اور عالمی عدالت سے رجوع کر نے کے لئے باصلاحیت وکلاء ٹیم اور مخصوص بجٹ منظور کر نے کی سفارش کی،غلام عباس میر صدر ویلی آزاد کشمیر لاہو ر نے کہا کہ تمام سیاسی، سماجی، انسانی و عدالتی تنظیموں سے اپیل کی کہ کشمیرکی افادیت کو مد نظر رکھ کر تحریک آزادی کشمیرکو ترجیع دیں۔ مولانا محمد آصم مخدومی چیئرمین کل مسالک علماء بورڈ نے کشمیر کے لئے اپنی خدمات پیش کی اور کہا کہ علماء ملک اور ملک کے باہر مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی نبھائیں۔مولانا ذہیر احمد طہیر چیر مین قومی اتحاد نے کشمیر میں انسانی اقدار کی پامالی روکنے کے لئے دُنیا کے مسلمان ممالک کو ایک واضع پالیسی اپنانی ہو گی اور اس حقیقت کی وضاحت کی کہ ظلم و جبر کے شکار انسانوں مسلمان ہو یا غیر مسلم سے عملی یکجہتی کرنا اسلام کی اساس ہے۔ غلام فاروق سیدی چیئرمین علما ء ونگ مسلم لیگ(ن) نے کہا کی حکمران جماعت اور اپوزیشن مل کر کشمیر کاز کو اُجاگر کریں۔پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی قائد جمعیت اہلحدیث، نے تحریک آزادی کشمیرسے عملی وابستگی نبھانے کے لئے علماء کو مشترکہ لائحہ عمل اختیار کر نے کی تجویز پیش کی۔ فاروق آزاد سابقہ ڈائریکٹر کشمیر سنٹر لاہور نے کشمیر کے حوالے سے ملک کے اندر اور باہر آگاہی پروگرام ترتیب دینے کی تجویز دی۔محمد شفیع جوش سیاسی و سوشل ایکٹوسٹ نے کشمیر کاز کو جذبات کے برعکس حکمت سے دُنیا کے سامنے پیش کرنے کی سفارش کی۔

مسئلہ کشمیر کی سیاسی، قانونی، انسانی، سماجی، معاشی پہلو کو اُجاگر کر نے کے لئے بہت کچھ کر نے کی ضرورت ہے۔ بھارت جائز جمہوری پُرامن تحریک آزادی کو ظلم و جبر سے دبانے کے علاوہ مقبوضہ کشمیر کی رہی سہی شناخت اور روایات کو یکسر ختم کرنے کے لئے لوکل اور عالمی قوانین کو بالکل نظر انداز کر رہاہے۔لہٰذا بھارت کے ان ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے نئی راہیں تلاش کر نے کی اشد ضرورت ہے۔اختتامی کلمات میں اس بات پر سب متفق ہو ئے کہ کشمیر کاز کو اُجاگر کر نے کے لئے پاک وطن کی سیاسی و دیگر تنظیمیں حریت کے انفارمیشن تعاون سے آگاہی پروگرام ترتیب دیں گے۔ حکومت اور متعلقہ فورموں اور تنظیموں سے اپیل کی گئی کہ کو تمام اہم تجاویز کو سنجیدگی سے لیں۔ ان شا ء اللہ شاہراہ حق پر جدوجہد سے بھارتی تمام منفی عزائم خاک میں مل جائیں گے اور دُنیا کو کشمیر کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانی پڑے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں