53

شاہ رُخ خان پر شان کی تنقید، بھارتی مداح گالیاں دینے لگے!

کراچی: پاکستانی سپر اسٹار شان شاہد کو ’’لائن کنگ‘‘ کے ہندی ورژن میں شاہ رُخ خان کی آواز پر تنقید اس وقت مہنگی پڑ گئی جب ان کی ٹویٹ کے جواب میں ہندوستان سے کنگ خان کے مداحوں نے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور خوب کھری کھری سنائیں۔ کنگ خان کے کچھ فینز تو اپنے کمنٹس میں گالیاں تک دینے لگے۔

19 جولائی کو دنیا بھر سمیت ہندوستان اور پاکستان میں بھی ’’ڈزنی‘‘ کی مشہور فلم ’’لائن کنگ‘‘ ریلیز ہونے جارہی ہے جس کی ہندی ڈبنگ میں ’’مفاسا‘‘ اور ’’سمبا‘‘ نامی شیروں کی آوازوں پر بالترتیب شاہ رُخ خان اور ان کے بڑے بیٹے آریان خان نے وائس اوور دیا ہے۔ اس بارے میں 10 جولائی کے روز کنگ خان نے ٹوئٹر پر اس فلم کی ایک کلپ شیئر کرائی:

Mera Simba.. #TheLionKing @disneyfilmindia pic.twitter.com/kC66BMBOVE

— Shah Rukh Khan (@iamsrk) July 11, 2019

اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شان شاہد نے لکھا:

Mera Simba.. #TheLionKing @disneyfilmindia pic.twitter.com/kC66BMBOVE

— Shah Rukh Khan (@iamsrk) July 11, 2019

’’برائے مہربانی ایک یادگار فلم کو ہندی ڈبنگ سے تباہ نہ کیجیے۔ شاہ رُخ کی آواز کسی بھی دوسری فلم کےلیے اس کے وائس اوور سے مختلف نہیں۔ شیر کی ڈبنگ کرنے کےلیے کم از کم اپنی آواز کا انداز تو بدل لیتے۔‘‘

شان کا یہ تبصرہ شاہ رُخ خان کے بھارتی مداحوں کو اتنا برا لگا کہ انہوں نے جواب میں الٹے سیدھے کمنٹس کرنے شروع کردیئے۔ مثلاً رشیکیش بھنڈاری نامی ایک ٹوئٹر صارف نے ’’پاکستانی سمبا، دہاڑتے ہوئے‘‘ لکھ کر سرفراز احمد کی تصویر لگا دی جس میں وہ جماہی لے رہے ہیں:

Pakistani #Simba Roaring#indvspak #ENGvAUS #ENGvNZ pic.twitter.com/OGUIgPKKFR

— Hrishikesh Bhandari (@HRISHIKESHB241) July 11, 2019

شاہ رُخ خان کے کچھ مداح تو شان شاہد کو باقاعدہ گالیاں دینے پر بھی اتر آئے اور انہوں نے صرف شان ہی نہیں بلکہ پاکستان کےلیے بھی ایسے بیہودہ الفاظ استعمال کیے جو یہاں لکھے بھی نہیں جاسکتے۔

’’میرا باپ بِل گیٹس ہے‘‘ نامی ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا: کسی نے تم سے پوچھا؟

Pls don’t destroy an iconic film with Hindi dub .. no difference in shahrukhs voice it is like any other V/O he does for his films . At least change your voice expression for a lions dub.

— Shaan Shahid (@mshaanshahid) July 11, 2019

ایک اور صارف ’’الف شیخ‘‘ نے کہا: ’’پہلے 19 جولائی کا انتظار کرلو، پوری فلم توجہ سے دیکھنا اور پھر اپنا منہ کھولنا۔ میں ایسے مفروضوں والے کمنٹس سے عاجز آگیا ہوں!‘‘

First wait for 19th July…Watch movie carefully…And then open your mouth…I m fed up of this kind of hypothetical statements….#KingKhan

— Alif_Shaikh 🇮🇳 (@alif_shaikh99) July 13, 2019

کسی سمر آنند نے لکھا: اس کو کہتے ہیں پھوکٹ کی پبلسٹی لینا۔ کام کے نہ نام کے، سو دام اناج کے۔

Isko kehte hai fokat ka publicity lena..
Kaam ke na naam ke sau daam anaaz ke….👊👊👊👊

— Samar Anand (@itssid_11) July 11, 2019

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں